سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مجرموں نے سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مجرموں نے سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مجرمان زبیر چریا، رحمان بھولا، علی محمد، فضل محمد، شاہ رخ اور ارشد محمد نے سزا کو چیلنج کیا۔

تین فیکٹری ملازمین کی جانب سے شوکت حیات اور فاروق حیات ایڈووکیٹ نے اپیل دائر کی جبکہ مجرم رحمان بھولا اور زبیر چریا کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر منسوب نے اپیل دائر کی۔

وکلا نے جمع کرائی گئی اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔

واضح رہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ 8 سال بعد گزشتہ ماہ 22 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنایا گیا۔ جس میں مجرمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی گئی۔

عدالت نے ایم کیوایم رہنما رؤف صدیقی سمیت چار افراد کو عدم ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔ بری ہونے والوں میں ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبد الستار بھی شامل تھے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چار ملزمان کو سہولت کاری کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔ سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود، فضل، شاہ رخ اور علی احمد شامل تھے۔

گیارہ ستمبر2012 کو ہونے والے سانحہ بلدیہ ٹاون میں259افراد جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں