وزیر اعظم کا نواز شریف کے خلاف مقدمے سے کوئی لینا دینا نہیں: شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے خلاف کسی ایف آئی آر سے حکومت یا وزیر اعظم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ہم نے کوئی غداری کے سرٹیفکیٹ نہیں دیے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ معاشی اعشاریے اچھے جارہے ہیں، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری آئی ہے اور جاری اخراجات کا خسارہ مسلسل 2 ماہ سے کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی سامایہ کاری بھی قابل اطمینان ہے، ہماری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کار آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، بارشوں کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا اور قیمتوں میں اضافہ ہوا، بارشوں سے کپاس کی پیداوار بھی متاثر ہوئی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی پیداوار کے اہداف پورے نہیں کر سکیں گے۔

 

شبلی فراز نے کہا کہ مہنگائی کے علاوہ تمام اشاریے مثبت جانے جارہے ہیں، گندم اور چینی کے ذخائر ہماری ضرورت کے مطابق ہیں لیکن حکومت سندھ گندم ریلیز نہیں کر رہی جو قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پی آئی اے کے معاملات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، پی آئی اے میں بہت مسائل ہیں تاہم کورونا کے دوران قومی ایئر لائن کا ریونیو 7.8 ارب روپے بڑھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز محمد زبیر نے کہا کہ جب تک حکومت نہیں گرتی (ن) لیگ کی ترجمانی کروں گا، میں انہیں پارٹی کا تاحیات ترجمان بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ دشمن پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے، جو بیانیہ بیان کیا جارہا ہے یہی باتیں ہمارے دشمن بھی کر رہے ہیں، دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان کا حال لیبیا، عراق یا افغانستان جیسا ہو جائے، بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ ہمیں بلیک لسٹ میں لے جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپوزیشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم اپنے کام کر رہے ہیں، ہم اداروں کو آگے لے جارہے ہیں اور ملک کی خوشحالی کے لیے کام کرتے رہیں گے جبکہ عمران خان کرپشن نہ کرتا ہے نہ ہی کسی کو کرنے دے گا۔

شبلی فراز نے کہا کہ پچھلےحکمران لوٹ مار میں لگے رہے اور مال بنایا، اگر ملک میں کوئی کرپٹ نہیں ہے تو ملک میں کرپشن کس نے کی ہے؟ اگر اس ملک میں کوئی بھی کرپٹ نہيں تو یہ ملک اس حالت میں کیوں آگيا، ان سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ میں 3 بار وزیر اعظم رہ چکا ہوں، اگر عمران خان بھی کچھ کریں تو وہ بھی انہی قوانین کے تحت آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ ان سے ہے جنہوں نے ذاتی مفادات کے لیے ملک کا استحصال کیا، اب ایسی حکومت آگئی ہے جو ایسا کام کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے جبکہ انصاف عہدوں سے نہيں ہوتا یہی ان میں اور ہم میں فرق ہے۔

نواز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ جس نے بھی کیا ہے پتہ چل جائے گا لیکن اسے ہمارے کھاتے میں نہ ڈالا جائے، ہوسکتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ایف آئی آر ان کے اپنے لوگوں نے درج کرائی ہو لیکن ایسی کسی ایف آئی آر سے حکومت یا وزیر اعظم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ہم نے کوئی غداری کے سرٹیفکیٹ نہیں دیے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں کتنی ہی ایف آئی آرز ہوتی ہیں، کیا وہ سب وزیر اعظم سے پوچھ کر ہوتی ہیں؟ پنجاب حکومت معلوم کرے کہ مقدمہ درج کس نے کروایا ہے تاہم دشمن کی زبان بولیں گے تو کہنے کی ضرورت نہیں کہ کون محب وطن ہے، جبکہ انصاف عہدوں کو دیکھ کر نہیں ہوتا اور کوئی کتنی بار بھی وزیر اعظم بنا ہو جرم کرے گا تو سزا ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 121، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش)، 123 اے (ملک کی تشکیل کی مذمت اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی حمایت)، 124 اے (بغاوت)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کا فروغ) اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ‘سزا یافتہ نواز شریف علاج کروانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں’۔

مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق ‘مجرم نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کے خطابات دشمن ملک بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کیے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے’۔

ایف آئی آر میں دیگر لیگی رہنماؤں کو نامزد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان لوگوں نے نواز شریف کی تقاریر کی تائید کی۔

منگل کو لاہور پولیس نے وضاحت کی کہ تھانہ شاہدرہ میں سابق نواز شریف و دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ ریاست یا کسی ریاستی ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ ایک نجی شہری بدر رشید کی درخواست پر درج کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں