سی پیک کے کسی منصوبہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی: عاصم سلیم باجوہ

چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ سی پیک کے کسی منصوبہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔

ایک انٹرویو کے دوران عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پانچ سال کے تجربے سے محسوس ہوا کہ سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لانا ضروری ہے، حکومت چاہتی تھی کہ سی پیک کے لیے ون ونڈو آپریشن قائم کیا جائے۔

سی پیک اتھارٹی کا فوکس متعلقہ وزارتوں کے ساتھ کوارڈینیشن کرکے مختلف منصوبوں کی جلد تکمیل پر ہے، سی پیک اتھارٹی پلاننگ کمیشن کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، گزشتہ 10 ماہ کی محنت کے بعد سی پیک کے کسی منصوبہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ ایم ایل ون سی پیک کاسب سے اہم منصوبہ ہے جو تاریخی ہوگا، اس سے کراچی اور لاہور کے درمیان سفر 6 سے 7 گھنٹوں کا رہ جائے گا،ریلوے ٹریفک کی بہتری سے پاکستان میں کاروباری حضرات کو فائدہ پہنچے گا،ایم ایل ون کا منصوبہ 7 سے 9 سال کی مدت میں مکمل ہوگا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے لائن بچھانے پر بھی غور کررہے ہیں۔

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ سی پیک کے محتلف منصوبوں کے لیے نجی و سرکاری پارٹنرشپ کے تحت بڑی سرمایہ کاری پاکستان آرہی ہے، قراقرم ہائی وے کی تکمیل پاک چین اقتصادی راہداری کی بنیاد تھی، کسی بھی منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے پہلے جوائنٹ ورکنگ گروپ میں بحث کی جاتی ہے۔

جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اتفاق کے بعد معاملے کو جے سی سی میں لے جایا جاتا ہے، گوادر کی ترقی پر توجہ رہے ہیں ، گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پاکستان کا بڑا ایئرپورٹ ہوگا،ژوب کوئٹہ سڑک کے لیے رقم مختص کردی گئی ہے، امید ہے رواں ہفتہ ٹینڈر الاٹ ہوجائے گا، آزاد کشمیر میں سی پیک کے تین بڑے منصوبہ ہیں جس سے وہاں کی حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوگا۔

عاصم سلیم باجوہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، توانائی کے شعبے میں ہم ہائیڈل پاور پراجیکٹس کی طرف جارہے ہیں، ملک میں آج شاٹ فال نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں