وزیر اعظم سے آرمی چیف کی ملاقات؛ ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی سیکیورٹی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کے دوران وفاقی کابینہ کے اراکین اور دیگرحکام بھی شریک تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل حکومتی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ قومی ادارے قابل احترام ہیں۔ قومی ادارے ایک پیج پر ہیں اور ملک کے اتحاد کی ضمانت ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس کے بعد مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے بھی عمران خان سے ملاقات کی جس میں ملکی تازہ سیاسی صورت حال،حکومتی اموراور نئی قانون سازی پر مشاورت کی گئی۔

ملاقات میں گزشتہ روز ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی پر بھی گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بابر اعوان نے وزیراعظم کو بتایا کہ نوازشریف کی کل کی تقریر مجھے کیوں نکالا کا پارٹ ٹو تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شریک جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

اے پی سی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں صوبائی دارالحکومتوں سمیت بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے۔ دسمبر میں ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی۔ ان میں عدم اعتماد کی تحاریک اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اے پی سی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپوزیشن کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ریکارڈ توڑ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا، شفاف اورآزادانہ انتخابات کرائے جائیں کیونکہ موجودہ حکومت کو دھاندلی کے ذریعےمسلط کیا گیا۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں