اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں اپوزیشن کی مختلف جماعتوں نے شرکت کی تاہم جماعت اسلامی نے اس اے پی سی میں شرکت سے پہلے ہی انکار کردیا تھا۔

آج ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہوئے۔

اس آل پارٹیز کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ اس میں علاج کے غرص سے لندن میں موجود مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔

بعدازاں کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران احمد نیازی سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔

متحدہ اپوزیشن ملک گیر تحریک کے آغاز کا اعلان کرتی ہے

وکلا، تاجر، کسان، مزدور، طالبعلم، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو اس تحریک کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔

اکتوبر 2020 کے پہلے مرحلے میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مشترکہ جلسے منعقد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

دسمبر 2020 سے دوسرے مرحلے میں بڑے احتجاجی عوامی مظاہرے ہوں گے اور عوام کے ساتھ مل کر بھرپور ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہو گا۔

سلیکٹڈ حکومت کی تبدیلی کے لیے تحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام جمہوری، سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی جن میں عدم اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس سے سابق صدر آصف علی زرداری ابتدائیہ خطاب کیا جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘اگر ہم آج فیصلے نہیں کریں گے تو کب کریں گے، میں مولانا فضل الرحمٰن کی سوچ سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو بہت مایوسی ہوگی’۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی آصف زرداری نے جو ٹرینڈ سیٹ کیا ہے اسی کو آگے لیکر چلنا ہے، آپ سب جانتے ہیں 73 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: اے پی سی میں شریک اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم کے فوری استعفے اور شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ‘میری نظر میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا’۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں، میرا انٹرویو پارلیمنٹ سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن وہ آمر جو بھاگا ہوا ہے اس کا انٹرویو دکھانا ان کے لیے ناپاک نہیں ہے۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ‘یہ جو قوتیں اور اسٹیبشلمنٹ ہیں جنہوں نے عوام سے جمہوریت چھینی ہے، کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑے گا’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ان کے سامنے عوام کا مطالبہ پیش کرنے پڑے گا، ‘ہمیں ان کے سامنے مطالبہ پیش کرنا پڑے گا کہ ہمیں، اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو آزادی دیں’۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری جو اس کانفرنس کے میزبان بھی ہیں انہوں نے خطاب میں کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو معاشرے کو ہر طرف سے کمزور کیا جاتا ہے اور ہماری کوشش تھی کہ بجٹ سے پہلے اے پی سی کروائیں۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا دو سال میں ہمارے معاشرے اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور جرائم میں اضافہ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں