تبدیلی سرکار کی کوئی تدبیر کام نہ آئی؛ دعووں وعدوں کے باوجود مہنگائی پر قابو نہ پایا جا سکا

تبدیلی سرکار کے تبدیلی کے دعوے محض دعوؤں تک محدود ریے۔ ستمبر کا تیسرا ہفتہ اور مہنگائی پر قابو نہ پایا جا سکا۔

حکومتی دعوؤں کے باوجود مہنگائی کا جاری سلسلہ نہ تھم سکا۔ سرکاری ادارے ادارہ شماریات نے ماہ سمتبر کے تیسرے ہفتے کے مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادو شمار جاری کر دیئے۔

جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں صفر اعشاریہ 71 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ مجموعی شرح 8 اعشاریہ 71 فیصد کی سطح پر پہنچ گئ۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 17 ہزار تک ماہانہ کمانے والوں کیلئے مہنگائی کی شرح 11 اعشاریہ 67 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

جبکہ 17 سے 23 ہزار تک والوں کیلئے مہنگائی کی شرح 11 اعشاریہ 37 فیصد تک پہنچ گئ ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 26 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا۔

ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ جس کے ساتھ ہی ٹماٹر کی فی کلو قیمت 71 روپے سے بڑھ کر 91 روپے کی سطح پر پہنچ گئ۔

اسی طرح سے انڈوں کی فی درجن قیمت میں 7 روپے برائلر مرغی کی فی کلو قیمت میں ساڑھے 8 روپے کا اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دال ماش اور دال مونگ 2 روپے فی کلو تک مہنگی ہو گئی۔ جبکہ چینی کی فی کلو قیمت میں ایک بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فی کلو 94 روپے 72 پیسے کی سطح پر پہنچ گئ۔

دستاویز کے مطابق رواں ہفتے کے دوران تازہ دودھ، دہی، خشک دودھ، جلانے کی لکڑی، لہسن، گڑ، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران صرف 3 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی۔ جن میں ایل پی جی کا گھریلو سیلنڈر، آلو اور کیلے شامل ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران چاول، نمک، بریڈ سمیت 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں