ریاست عام شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے: جسٹس اطہر من اللہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد سے متعلق کیسز کے ایک حکم نامے میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی طاقتور ایلیٹ قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی براہ راست ذمہ دار ہے اور یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریاست عام شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی۔

اسلام آباد میں جرائم،گمشدگیوں اور زمینوں پر قبضوں کے بڑھتےکیسز پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں زمینوں پر قبضوں کے جرائم کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے، رپورٹس بتارہی ہیں کہ سسٹم کس طرح کرپشن زدہ ہوچکا اور تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے حکم نامے میں کہا کہ اسلام آباد کی طاقتور ایلیٹ قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی براہ راست ذمہ دار ہے، یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریاست عام شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی، شہر میں امن وامان کی خوفناک صورتحال ناقابل برداشت ہے۔

عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہےکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، شہریوں کا نظام انصاف پر سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بناکر شہریوں کا اعتماد بحال کرے۔

عدالتی حکم کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے اپنی رپورٹ میں ملزمان کی تفتیش اورپراسیکیوشن میں خامیوں کااعتراف کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں