اہم معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو گیا ہے اور اجلاس میں اسپیکر کی جانب سے تحریک کی منظوری کے خلاف اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس آج اسلام آباد میں اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہو رہا ہے اور اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان بھی شریک ہیں۔

اجلاس میں بڑی تعداد میں اراکین کورونا وائرس کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ماسک نہیں پہنے ہوئے ہیں۔

اجلاس شروع ہوتے ہی بابر اعوان نے وقف املاک بل 2020 کی تحریک پیش کی گئی جسے اسپیکر نے منظور کر لیا جس پر اپوزیشن نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

احتجاج کے دوران اپوزیشن کا موقف ہے کہ ان کے اراکین کو صحیح طریقے سے نہیں گنا جا رہا اور جلد بازی میں بل منظور کیا جا رہا ہے۔

اسی ہنگامہ آرائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی آغاز رفیع اللہ ان کی حکومتی اراکین کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر اور شیری رحمٰن اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن نے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے ‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے بھی بلند کیے۔

اپوزیشن کے احتجاج پر اراکین کی دوبارہ گنتی کی گئی اور دوبارہ گنتی کے بعد بھی اسلام آباد وقف املاک بل پیش کرنے کیی تحریک اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔

تحریک کے حق میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ووٹ پڑے۔

بعدازاں بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا گیا لیکن اس دوران اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے رہے اور احتجاج ریکارڈ کراتے رہے جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں