سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 2020 میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے مسترد

سینیٹ میں اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومت کو پریشان کر دیا، انسداد دہشت گردی ایکٹ 2020میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا جبکہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق کواپریٹو سوسائیٹیز ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔

چئیرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 2020میں ترمیم کا بل سجاد حسین طوری نے پیش کیا، جس پر رائے شماری کی گئی ، بل کے حق میں 31جبکہ مخالفت میں 34 ووٹ آئے اور بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

اس سے قبل ایوان نے کوآپریٹو سوساٹیز ترمیمی بل دو ہزار بیس کی منظوری دی ، کوآپریٹو سوساٹیز ترمیمی بل دوہزار بیس وزیراعظم کے پارلیمانی مشیر ظہر الدین بابر نے سینیٹ میں پیش کیا۔

جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق احمد نے کوآپریٹو سوسائٹی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا میں بل کی مخالفت کرتا ہوں ، ایف اے ٹی ایف کا سکرپٹ پر یہ بل جیٹ جہاز کی رفتار سے پاس ہوا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے گزارش ہے ایف اے ٹی ایف پر بس پردہ ملاقاتیں کرنا چھوڑ دیں۔

دوسری جانب نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کی املاک ، مدارس، ہسپتال منجمند کرنے کی تفصیلات بھی سینیٹ میں پیش کی گئیں اور بتایا گیا کہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے نامزد کردہ اداروں اور انکی املاک کو منجمند کیا گیا۔

وزارت داخلہ نے بتایاکہ منجمند ضبطگی وزارت داخلہ کی جانب سے نہیں بلکہ وزارت خارجہ کے جاری کردہ یو این سیکیورٹی کونسل حکمنامہ 2019کے تحت کیا گیا جبکہ کالعدم تنطیموں کے 76سکولز، 4کالجز، 15ہسپتال منجمند کئے گئے۔

بتایا گیا کہ 383مدارس، 188ڈسپنسریاں، 10کشتیاں , 17عمارتیں بھی شامل ۔کالعدم تنظیموں کے سب سے زیادہ املاک پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منجمند کئے گئے۔

انسداد دہشت گردی ترمیمی بل مسترد ہونے پر اجلاس جمعہ کے دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں