شہباز شریف نے ایوان میں دیے گئے اپنے بیان پر معذرت کرلی

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے گزشتہ روز موٹر وے واقعہ سے متعلق ایوان میں دیے گئے اپنے بیان پر معذرت کرلی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں اپنی بات مناسب طریقےسے نہیں کہہ سکا۔ میری بات سے جو تاثر ابھرا، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ موٹروے واقعہ پر انتہائی افسردہ ہوں۔

اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے کہا کہ امید ہے حکومت سیالکوٹ موٹروے پر شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ خاتون سے زیادتی کا واقعہ دل دہلا دینے والاتھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے کہا تھا کہ موٹروے، ڈولفن پولیس فورس اور فرانزک لیب نوازشریف کے دور میں بنا۔ فرانزک لیب دنیا کی سب سے بڑی دوسری لیب ہے۔ نوازشریف کے دور میں پولیس ریفارمز کی گئیں۔ پنجاب میں پولیس افسروں کی تعیناتیاں 95 فیصد میرٹ پر ہوتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ حکومت اس بحث پر الجھی ہوئی تھی کہ موٹروے پر کس کا کنٹرول ہے۔ موٹروے واقعے پر سی سی پی او کا بیان شرمناک ہے۔ پولیس افسر کے بیان سے پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے۔ پولیس افسر نے بیان دیا کہ پیٹرول نہیں تھا تو رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی۔ کوئی ذی شعور شخص اس طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ اداروں کی رپورٹ کہہ رہی تھی یہ پولیس افسر کرپٹ ہے۔ ڈھٹائی کےساتھ اس پولیس افسر کو سی سی پی او تعینات کیا گیا۔

شہبازشریف نے کہا تھا کہ سی سی پی او لاہور کو جس نے لگایا وہ سینہ تان کرکھڑے تھے کہ ہم نے لگایا۔ موٹروے واقعے پر اپوزیشن لیڈر شپ نے ذمہ داری کا کردار ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں