جس پاکستان کا تصور ہم کرتے ہیں وہ یہاں نظر آرہا ہے: عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب میں نے میانوالی میں نمل یونیورسٹی بنانے کا ارادہ کیا تو سب نے کہا کہ دیہات میں پرائیوٹ یونیورسٹی نہیں صرف سرکاری یونیورسٹی بن سکتی ہے۔

لاہور میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ ایسا لگا کہ آگے نہیں جاسکتے کوئی دیوار آگئی لیکن اگر ادارے مضبوط اور خواب بڑھے ہوں تو تمام مشکلات سے مقابلہ کرنے کی قابلیت اور صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز جبکہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے اراکین اور دیگر عہدیدار موجود تھے جبکہ خطاب سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سنگ بنیاد کے موقع پر پودا بھی لگایا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ جس پاکستان کا ہم تصور کرتے ہیں وہ پاکستان یہاں نظر آرہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ‘نیا پاکستان’ کے حوالے سے کہا کہ مشکل وقت میں لوگوں سے نیا پاکستان کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں یقینا جب ملک میں مشکل حالات ہیں تو لوگوں کے لیے مشکلات ہوتی ہیں ایسے میں کیمرا لے کر لوگوں سے نیا پاکستان کے بارے میں سوال کرنے سے منفی جواب ہی ملے گا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ‘پاکستان کو مقروض کرکے چلے گئے، حکومت کو قرضے دینا ہو، ملک چلانے کے لیے قرضے لینا ہو تو ایسے حالات میں اگر اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائیں تو لوگوں کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ ہی دنیا کی تاریخ ہے.

انہوں نے کہا کہ اس کا یہ نہیں مطلب کہ اپنے خواب چھوٹے رکھو۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘چھوٹی سوچ یہ ہوتی ہے کہ اقتدار میں آئے اپنی شوگر ملز اور دیگر فیکٹریاں لگائیں اور لندن میں بڑے بڑے گھر لے لیے’۔

انہوں نے ملائیشیا کے رہنما مہاتیر محمد کو بڑی سوچ والی شخصیت قرار دیا۔

عمران خان نے کہا کہ راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر سابقہ حکومتوں نے اس لیے کام نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک ملک نہیں بلکہ اپنا مالی فائدہ اہم تھا اور وہ بڑا کام نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ راوی اربن ڈیولپمنٹ منصوبے کی تکمیل کے دوران متعدد رکاوٹیں آئیں گی، یہ منصوبہ آسان نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مذکورہ منصوبہ لاہور کی بھی ضرورت ہے کیونکہ جس طرح لاہور کی آبادی بڑھتی جاری ہے، لاہور میں 40 فیصد کچی آبادی ہے، کسی نے ان کے بارے میں نہیں سوچا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب بھارت، برطانیہ اور دیگر ممالک نے کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگایا تو مجھ پر شدید دباؤ تھا لیکن میں صرف ایک سوال کرتا تھا کہ غریب اور یومیہ اجرت والا شخص لاک ڈاؤن میں اپنے لیے کیسے وسائل جمع کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا میں بھارت کو غلط فیصلے پر سب سے زیادہ معاشی نقصان پہنچا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنا تھا جہاں غریب کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ میرا تھیسز ہے کہ ریاست مدینہ اگر فلاحی ریاست بنی تو اس کی وجہ پیسہ نہیں ہے بلکہ پہلے انہوں نے فلاحی ریاست بنائی پھر اللہ کی مدد اس میں شامل ہوئی’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘پوری دنیا چین کی معاشی اور سائنسی ترقی سے خوفزدہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہے نیا پاکستان جہاں پہلی مرتبہ غریب طبقے کے تمام افراد کو ہیلتھ انشورنس دی گئی، پناہ گاہ کے ذریعے گھروں سے محروم افراد کوجگہ فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ تنخواہ دار اور غریب طبقے کو موقعہ ملے گا کہ وہ اپنا گھر بنا سکے.

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولمنٹ میں ہاؤسنگ کا منصوبہ ہوگا جہاں پر کچی آبادی کا طبقہ بھی اپنے لیے معقول گھر بنا سکے’.

انہوں نے کہا کہ لاہور میں زمینی پانی کی سطح بہت کم ہوچکی ہے جبکہ راوی منصوبے میں شامل جھیل سے اس گھمبیر مسئلے پر قابو پائیں گے.

عمران خان نے کہا کہ ‘لاہور کا سارا سیوریج راوی میں اس کے بعد وہ آگے چلا جاتا ہے جو بہت زیادہ بیماریوں کا باعث بنتا ہے’.

انہوں نے کہا کہ راوی میں جانے والا پانی فلٹر پلانٹ سےہو کر جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب

اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ منصوبے کے تحت 12 زونز بنیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ راوی اتھارٹی بنائی ہے جس کے اندر کسی غیر متعلقہ ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ ہم آئندہ تین برس تیزی کام کریں گے اور دہائیوں تک یہ منصوبہ یاد رکھا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبے میں 18 لاکھ رہائشی یونٹس قائم ہوں گے اور مذکورہ منصوبہ ملک کی ماحولیاتی اور معاشرتی ضرورت کو پورا کرےگا۔

واضح رہے کہ 7 اگست کو وزیراعظم عمران خان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ہے کہ یہ 50 کھرب روپے کا پروجیکٹ ہے اس کے لیے سرمایہ کاروں کو لے کر آئیں گے جبکہ اس پروجیکٹ کے تحت 60 لاکھ درخت بھی لگائے جائیں گے۔

منصوبے کی لاگت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ یہ منصوبے کا تخمینہ تقریباً 5 ٹریلیں (50 کھرب روپے) کا ہے، جس کے لیے سرمایہ کاری ہوگی کیوں کہ یہ حکومت کے لیے تنہا ممکن نہیں اور اس کے لیے سرمایہ کاروں کو لے کر آئیں گے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس جو رقم موجود ہے وہ تقریباً ملک کے جی ڈی پی کے برابر ہے، یہ ان کے لیے بھی بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی رقم ملک میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں