خاتون سے زیادتی کا واقعہ موٹروے پر پیش نہیں آیا، وفاقی وزیر مراد سعید کا دعویٰ

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے قومی اسمبلی میں دعویٰ کیا ہے کہ خاتون سے زیادتی کا واقعہ موٹروے پر پیش نہیں آیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ پوری قوم کو موٹر وے واقعے پر غم ہے، افسوس ہے کہ بحث اس پر نہیں ہورہی کہ مجرموں کو سخت سزا دی جائے لیکن دو قسم کی بحثیں ہورہی ہیں کہ موٹروے واقعے پر وزیرمواصلات مستعفی ہو اور ڈی اے این لیب کا کریڈٹ کس کو دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ واقعہ کراچی میں ہوا یا موٹر وے پر؟ یہ واقعہ موٹر وے پر نہیں ہوا لیکن بحثیت مرد میں اس واقعہ کی ذمہ داری لیتا ہوں، میں اس ایوان کا حصہ ہوں جس نے خواتین کو حقوق دلانے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کہاجارہا ہےکہ خاتون نے جب 130 پر فون کیا تو کہا گیا کہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں، میں نے وہ فون کال سنی، یہ نہیں کہا گیا کہ دائرہ اختیار نہیں۔
وفاقی وزیر مراد سعید شاید بھول چکے کہ خاتون سے زیادتی کا واقعہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر لاہور ٹول پلازہ سے دو کلومیٹر دور پیش آیا جس پر ٹول وصول کرنے کا ٹھیکہ ان کے زیر انتظام ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے دے رکھا ہے۔

انہی کے ماتحت ادارے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے آئی جی سید کلیم امام خود تسلیم کرچکے ہیں کہ متاثرہ خاتون کی ہیلپ لائن پر کال کرنے پر انہیں جواب دیا گیا تھا کہ یہ موٹر وے پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

اُدھر کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے اپنے طلب کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ میں بیان دیا ہے کہ رنگ روڈ تک لاہور پولیس کا دائرہ اختیار ہے جب کہ اس سے آگے موٹر وے پولیس کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ وزارت مواصلات کی ویب سائٹ پربھی لاہور سیالکوٹ ایسٹرن بائی پاس کو این ایچ اے کے زیر انتظام ظاہر کیا گیا ہے۔ ان حقائق کے بعد کس کے دعوے کتنے درست ہیں ؟ فیصلہ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں