مری میں ایک بار پھر سیروتفریح کیلئے آئی فیملی پر تشدد

پاکستان کے مشہورو معروف سیاحتی مقام مری میں ایک بار پھر سیروتفریح کیلئے آئی فیملی پر تشدد کیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔

ایکسپریس وے کے ریسٹورنٹ میں معمولی تلخ کلامی پر فیصل آباد سے آنے والی فیملی پر عملے نے تشدد کیا۔

علی توقیر نامی سیاح نے بتایا کہ ’مری میرے ساتھ خواتیں پر بھی تشدد کیا گیا ہے‘۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مری میں سیاحوں پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر راولپنڈی اور آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائے۔

عثمان بزدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مری اور دیگر سیاحتی مقامات پر ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ پولیس سیاحتی مقامات پر تواتر کے ساتھ گشت کرے۔

خیال رہے کہ مری میں سیاحوں پر تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس قبل بھی مال روڈ پر ہوٹل گائیڈز نے خاتون سیاح کو فیملی سمیت جی پی او چوک میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ مری ہوٹل یونین نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مری پولیس نے حدود کا بہانہ بناکر خاتون سیاح کی درخواست لینے سے انکار کردیا تھا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سخت نوٹس لینے اور کارروائی کا حکم ملنے کے بعد ایک شخص کو نامزد اور 10 نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں