موٹروے زیادتی کیس: پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف مگر نتیجہ صفر

علاقے کی جیو فینسنگ مکمل، پولیس کی ایک نہیں دو نہیں بیس ٹیمیں لاہور موٹروے واقعہ کی تحقیقات میں مصروف مگر نتیجہ صفر، تین روز گزر جانے کے باوجود بھی خاتون سے زیادتی کے ملزمان نہ پکڑے جاسکے، سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان پر معذرت کرلی۔

میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی،خاتون کے ڈی این اے ٹیسٹ فرانزک کے لئے بھیجوا دئیے گئے

پولیس نے حادثے کے مقام کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کردیئے ہیں،کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی

سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری مواصلات، آئی جی پولیس اور موٹرویز کو سولہ ستمبر کو طلب کرلیا،کمیٹی نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو بھی نازیبا بیان پر کمیٹی میں طلب کرلیا

مزید پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس: متاثرہ خاندان کو یقین دلاتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، عثمان بزدار

خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ پر سی سی پی او لاہور کا بیان ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بننے،سینیٹ کمیٹی کے نوٹس لینے پر معاملہ بگڑتا دیکھ کر لاہور کے پولیس چیف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں وضاحت بھی دی

مشیر احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے لاہور میں موٹروے پر بچوں کے سامنے خاتون کیساتھ ہونیوالی زیادتی کے واقعے کو انتظامیہ کی نااہلی قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں