قائداعظم کی نمازِجنازہ

قائداعظم کی وفات کو بہتر برس بیت گئے لیکن کچھ واقعات ابھی بھی حل طلب ہیں۔بابائے قوم کے جنازے کے حوالے سے کچھ حقائق عوام سے پوشیدہ ہیں ۔

اکثریت کا خیال ہے کہ 11 ستمبر 1948 کو انتقال کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ صرف ایک مرتبہ ادا کی گئی اور یہ نماز مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔بانی پاکستان کی نماز جنازہ دو مرتبہ ادا کی گئی، ایک مرتبہ اہل تشیع کے طریقے سے اور دوسری مرتبہ اہل سنت کے طریقے سے۔مؤرخین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے طریقہ سے نماز جنازہ مولانا سید انیس الحسنین رضوی نے ادا کی تھی۔اور اس بات کی تصدیق انہوں نے خود کی ہے۔

سید انیس الحسنین رضوی کہتے ہیں یہ 11 اور 12 ستمبر کی درمیانی رات تھی۔ میں اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو بتایا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہو گیا ہے اور محترمہ فاطمہ جناح نے مجھے گورنر جنرل ہاؤس بلایا ہے۔‘’میں سرکاری گاڑی میں گورنر جنرل ہاؤس پہنچا تو فاطمہ جناح نے بیگم نصرت عبداللہ ہارون کے ذریعے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں قائد اعظم کے غسل اور تکفین کا اہتمام شیعہ اثنا عشری کے مطابق انتظام کروں اور بعدازاں ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاؤں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کے کمرے سے ملحق غسل خانے میں اثنا عشری طریقے کے مطابق قائد اعظم کی میت کو غسل دیا گیا اور کفن پہنایا گیا۔ اس کے بعد نماز جنازہ پڑھائی گئی جس میں کراچی کے ایڈمنسٹریٹر ہاشم رضا، کراچی کے انسپکٹر جنرل پولیس سید کاظم رضا، سندھ کے وزیراعلیٰ یوسف ہارون، آفتاب پسر حاتم علوی اور حاجی کلو وغیرہ نے شرکت کی۔‘

نماز جنازہ کے بعد میت کو راہداری میں رکھ دیا گیا تاکہ عوام الناس آخری دیدار کر سکیں۔اس کے بعد میت علم عباس ؑ کے سائے میں فوجی گاڑی پر مقام تدفین کی طرف روانہ ہوئی جہاں لاکھوں آدمیوں نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں دوبارہ نماز جنازہ ادا کی۔
’قائداعظم کی تدفین کے بعد مولوی سید غلام علی احسن مشہدی اکبر آبادی نے بہ طریقہ شیعہ اثنا عشری تلقین بھی پڑھی تھی۔ تلقین پڑھائے جانے کے بعد قبر پر وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزرا اور اسلامی ممالک کے سفیروں نے مٹی دی۔ ‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں