موٹروے زیادتی کیس: متاثرہ خاندان کو یقین دلاتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، عثمان بزدار

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لنک روڈ پر خاتون سے زیادتی کا کیس جلد حل ہوگا، متاثرہ خاندان کو یقین دلاتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ بیان میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت متاثرہ خاتون اور ان کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، تمام ترہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گھناؤنے واقعے میں ملوث ملزمان رعایت کے مستحق نہیں، متاثرہ خاندان کو یقین دلاتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب پولیس پہلے بھی افسوسناک واقعات کے ملزمان کو گرفت میں لاچکی ہے، اصل ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، جگہ گرفتار افراد سے بھی تفتیش جاری ہے۔

مزید جانئے: گجر پورہ میں خاتون پر تشدد اور زیادتی کرنے والے ملزمان کے گاؤں کی شناخت ہوگئی

خیال رہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ پولیس نے تحقیقات کر کے ملزمان کے گاؤں کا سراغ لگا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ڈنڈوں سے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر شیشہ توڑ کر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی میڈیکل رپورٹ میں بھی تصدیق ہوگئی ہے۔

دوسری جانب سی سی پی او لاہور نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ملزمان کے قریب پہنچ گئے اور انہیں 48 گھنٹوں میں گرفتار کرلیں گے۔

لاہور موٹر وے پر انسانیت سوز حادثہ

صوبہ پنجاب کے شہر گجرپورہ میں سڑک پر خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پنجاب کے شہر لاہور گجرپورہ میں خاتون کی سڑک پر گاڑی کا پیٹرول ختم ہوا تو نامعلوم ملزمان خاتون کی گاڑی کا شیشہ توڑ کر انہیں بچوں کے ہمراہ کچے کے علاقے میں لے گئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

متاثرہ خاتون نے رشتہ دار کے مشورے پر موٹروے پولیس کو کال کی تو موٹروے پولیس کی جانب سے جواب ملا کہ یہ علاقہ بیٹ میں نہیں آتا، رشتہ داروں کے پہنچنے سے قبل دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان ایک لاکھ روپے، سونے کے دو کڑے، بریسلٹ، تین اے ٹی ایم کارڈ بھی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکار کا آنکھوں دیکھا حال

زیادتی کا شکار خاتون کی مدد کےلیے پہنچنے والی ڈولفن فورس کے اہلکار نے بیان میں کہا ہے کہ کھائی میں اتر کر خاتون کے پاس گئے متاثرہ خاتون نے بچوں کو حصار میں لیا ہوا تھا۔

ڈولفن فورس اہلکار علی عباس کا کہنا ہے کہ 2 بجکر 49 منٹ پر 15 پر کال موصول ہوئی تھی، موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس میں کوئی نہیں تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ کالر کی تلاش کرنے کےلیے لائٹ جلائی تو بچے کا جوتا نظر آیا، کھائی اترے تو دوسرا جوتا نظر آیا، جس پر ہمیں معاملہ مشکوک معلوم ہوا۔

مزید پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس: جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکار نے کیا درد ناک مناظر دیکھے؟ رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

علی عباس نے بتایا کہ معاملے کو مشکوک جانتے ہوئے ہم نے ہوائی فائرنگ بھی کی لیکن اندھیرا بہت تھا جس کے باعث کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

ڈولفن فورس اہلکار نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ کے بعد جھاڑیوں کی طرف گئے تو آواز آئی، جس پر ہم نے آواز لگائی تو خاتون نے ’بھائی‘ کہہ کر پکارا، قریب جاکر دیکھا متاثرہ خاتون نے بچوں کو حصار میں لیا ہوا تھا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ 15 پر کال کرنے والا کوئی راہ گیر تھا جو جاچکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں