بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 72ویں برسی، بیماری کے باوجود آزاد مسلم مملکت کی جد و جہد جاری رکھی

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا بہتر واں یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ برصغیرمیں آزاد مسلم مملکت کے قیام کا دیرینہ خواب چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو شرمندۂ تعبیرہوا۔

اس کی تعبیر ایک فرد واحد کی چشمِ کرشمہ سازکا نتیجہ تھی اور وہ فرد واحد قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔قائد نے اس ملک کی تشکیل کے لیے اپنی مہلک بیماری کو چھپائے رکھا ۔ اسے پاکستان کی تخلیق میں آڑے نہیں آنے دیا

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب برصغیر کے مسلمان اپنی بقا اورسلامتی کی جانب سے بڑی حد تک مایوس ہوچکے تھے قائد اعظم محمد علی جناح نے تدبر، فراست ، غیر متزلزل عزم، سیاسی بصیرت اور بے مثل قائدانہ صفات سے کام لے کر مسلمانوں کو متحد کردیا اور سات سال کی مختصر مدت میں مطالبۂ پاکستان کی ایسی وکالت کی کہ 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔

لوگ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ جناح تپ دق جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد زیارت میں صحت بگڑنے پر جب ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کو بتایا کہ انھیں تب دق کا مرض لاحق ہے تو جناح نے جواب دیا کہ وہ 12 برس سے جانتے ہیں اور اسے اس لیے ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہندو ان کی موت کا انتظار نہ کرنے لگیں۔‘

برصغیر کی جدوجہد آزادی کے موضوع پر لکھی گئی مشہورکتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مصنّفین لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر کہتے ہیں اگر ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی میں سے کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا علم ہو جاتا جو بمبئی کے ایک مشہور طبیب ڈاکٹر جے اے ایل پٹیل کے سینے اور دفتر میں محفوظ تھا تو شاید پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا۔ یہ راز جناح کے پھیپھڑوں کی ایک ایکسرے فلم تھی، ڈاکٹر پٹیل نے جناح کی درخواست پر ان ایکس ریز کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔

ماؤنٹ بیٹن نے قائد اعظم کی وفات کی خبر سن کر کہا تھا کہ ساری طاقت جناح کے ہاتھ میں تھی۔ ’اگر کسی نےانہیں بتایا ہوتا کہ وہ بہت کم عرصے میں ہی فوت ہوجائیں گے تو میں ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ راستے کا پتھر صرف مسٹر جناح تھے۔‘

پاکستان بننے کے بعد نومولود مملکت کے مسائل ایسے نہ تھے جن کو قائد اعظم نظر انداز کردیتے یا دوسروں پر چھوڑ دیتے۔ پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کا تعین اوراس پرعمل درآمد یقینی بنانا، آئین سازاسمبلی، سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کو نہ صرف ان کے فرائض سے آگاہ کرنا، بلکہ ان کو یہ باور کرانا کہ قوم ان سے کیا توقعات رکھتی ہے ایسے مسائل پر بھرپور توجہ دی۔

قائد اعظم اپنی علالت کے سبب قیام پاکستان کی پہلی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے معذور تھے۔ اس موقع پر آپ نے قوم کے نام ایک پیغام میں فرمایا، ’’پاکستان کا قیام ایک ایسی حقیقت ہے، جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ دنیا کی ایک عظیم ترین مسلمان ریاست ہے۔ اس کو سال بہ سال ایک نمایاں کردار ادا کرنا ہے اور ہم جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے، ہم کو ایمان داری، مستعدی اور بے غرضی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا ہوگی۔

بہ حیثیت گورنر جنرل قائداعظم صرف ایک روپیہ بطور تنخواہ لیا کرتے تھے۔سرکاری فنڈ سے کبھی اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ۔اپنی علالت کے دوران قائد نے معالجین کے اصرار کے باوجود برطانیہ اورامریکا سے ڈاکٹر بلوانے سے انکار کردیا کہ اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ پڑے گا۔انہوں نے مہاجر کیمپوں کی ذاتی طور پر دیکھ بھال کی اور مہاجرین کو ذاتی فنڈ میں سے تین لاکھ روپے امداد دی۔

قائداعظم محمد علی جناح کشمیریوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اتنی ہی محبت کشمیریوں کو بھی ان سے تھی۔ قائد اعظم نے کشمیریوں کو پاکستان کی شہ رگ بھی قراردیا تھا۔ آپ نے کشمیر کے 4 دورے کئے تھے ۔

قائد اعظم نے بیوروکریسی کو چند نصیحتیں کیں جن میں افسران کو لوگوں کا خدمت گزار سمجھتے ہوئے بے لوث خدمت کو اپنا نصیب العین بنانے، لوگوں سے معاملات کرتے وقت منصفانہ اورغیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے اورانہیں کسی حالت میں سیاسی دباﺅ میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس سے رشوت، اقربا پروری اور سفارش جنم لیتی ہے۔لیکن بیورو کریسی نے قائد اعظم کی یہ باتیں بھلا دیں ۔

بیوروکریٹ قائد کے فرامین کو فراموش کر کے ذاتی مفادات کی طرف راغب ہو گئے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کو اربوں ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا اور لوٹ کھسوٹ میں مشغول گئے۔

قائد اعظم جیسا پاکستان چاہتے تھے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم آج ایک بار پھر قائداعظم کے فرمودات کا جائزہ لیں اور ملک و قوم کے مفادات کیلئے انہیں مشعل راہ بنائیں۔ کیونکہ حقیقی اور ایک ہی پاکستان وہی تھا جس کے خطوط قائد اعظم استوار کر گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں