سمجھ نہیں آتا جو لوگ جرائم میں ملوث ہیں انہیں غائب کرنے کی کیوں ضرورت پیش آتی ہے، ہائی کورٹ

لاپتا افراد کی بازیابی کے کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے تفتیش میں لاپروائی برتنے پر 4 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پیز) کو معطل کردیا، لاپتہ شہری سمیر آفریدی کی والدہ کمرہ عدالت میں آہ و بکا کے بعد بے ہوش ہوگئیں۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آتا جو لوگ جرائم میں ملوث ہیں انہیں غائب کرنے کی کیوں ضرورت پیش آتی ہے، کیا ہماری حکومت اتنی کمزور ہے؟
عدالت نے ریمارکس ديے کہ تفتیشی افسران نے درست تفتیش کے بجائے شواہد مٹانے کی کوشش کی، جو پولیس افسر تفتیش کا اہل نہیں وہ ادارے میں کیسے تعینات ہے؟

عدالت نے حکم دیا کہ پولیس افسران 15 دن میں لاپتہ افراد کو بازیاب کراکر رپورٹ پیش کریں۔

دوران سماعت لاپتہ شہری سمیر آفریدی کی والدہ کمرہ عدالت میں بے ہوش ہوگئيں۔
اس موقع پر جسٹس نظر اکبر نے کہاکہ خاتون کا بیٹا بس پر کنڈیکٹر تھا لیکن پولیس نے بس کے مالک کا بیان تک ریکارڈ نہیں کیا، یہ دہشت گردی نہیں تو کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں