کراچی میں ایک اور عمارت گرگئی، ملبہ ہٹانے کے لئے ہیوی مشینری طلب

شہر قائد میں 4منزلہ رہائشی عمارت گرگئی، جس کے بعد خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا جبکہ ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

کراچی میں کورنگی کراسنگ اللہ والا ٹاون کے قریب رہائشی عمارت گرگئی، جس کے باعث ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

عمارت چار سے 5منزلہ ہے، امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہے، ریسکیوذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اوربچوں سمیت 8 افرادکوملبےسےنکال لیاگیا جبکہ مزیدافراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم عمارت گرنے کی وجہ سامنے نہیں آئی۔

امدادی ٹیموں اورپولیس کی مدد سے زخمیوں کوملبے سےنکالنے کی کوشش جاری ہے، ملبے سے نکالے گئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پاک فوج کے اہلکار امدادی کارروائیوں کیلئےجائے حادثہ پر پہنچ گئے۔

عمارت گرنےسےساتھ کی عمارت کوبھی نقصان پہنچا اور جائے حادثہ پردائیں اور بائیں جانب کی عمارتیں بھی مخدوش ہوگئیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت میں15سے20خاندان رہائش پذیرتھے جبکہ ملبے میں 20سے 25افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ عمارت چائناکٹنگ پر بنی ہوئی تھی ، نوٹس بھی جاری ہوا تھا ، عمارت کے ملبے سے آوازیں آرہی ہیں، عمارت میں رہنے والے زیادہ تر غریب اور سارے کرایےدار تھے، عمارت کے اندر 30سے35لوگ موجود ہیں۔

چیئرمین ایس بی سی اے نے کہا ہے کہ پلےگراؤنڈکی زمین پر قبضہ کرکےغیر قانونی عمارت بنائی گئی تھی ، عمارت گرنے کی جگہ پر جارہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ماہ پہلےعمارت کو مخدوش قرار دیا گیا، مخدوش قرار دینے کے بعد 6فلیٹوں کے رہائشی جا چکے تھے جبکہ 2فلیٹوں کےمکین فلیٹ خالی نہیں کررہے تھے۔

ذرائع کے مطابق بلڈر نے عمارت غیر قانونی بنائی تھی، ایس بی سی اے اور ملی بھگت سےغیر قانونی عمارت بناکر فلیٹ بیچےگئے، عمارت بنانے میں میٹریل بھی ناقص معیارکااستعمال کیاگیا۔

یاد رہے رواں سال جون میں کراچی کے علاقے لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گرنے کے نتیجے میں بائیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس میں 40 فلیٹ تھے جب کہ عمارت پر پینٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں