حکمران جماعت اب نیب کے ریڈار پر، نیب چیئرمین نے تحقیقات کا حکم دے دیا

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی منصوبے سے متعلق 6 الگ الگ انکوائریزکی منظوری دے دی گئی۔

نیب چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخواہ میں 4 الگ الگ انوسٹی گیشنز کی بھی منظوری دے دی

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے کل 12 انکوائریز کی منظوری دے دی گئی۔ نیب نے 7 انوسٹی گیشنز کی بھی منظوری دے دی

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سابق ایم ڈی پی پی ایل عاصم مرتضی خان کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کی منظوری۔

دوسری طرف قومی احتساب بیورو نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور پنجاب حکومت کے خلاف ایک اور کرپشن کیس میں تحقیقات میں پیش رفت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے آرمی شہدا کے ورثا کو مختص اراضی سرکاری افسران کو الاٹ کرنے کی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے اس سلسلے میں چیف سیکریٹری پنجاب سے زمین الاٹ کرنے پر تمام تر ریکارڈ طلب کر لیا۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ نیب اسلام آباد نے چیف سیکریٹری کو الاٹمنٹ کے طریقے کار اور رپورٹ فراہم کرنے کے لیے خط لکھا ہے، پنجاب حکومت انکوائری سے بچنے کے لیے تاحال نیب کو رپورٹ دینے میں ناکام رہی ہے۔

ذرایع کے مطابق جنوبی پنجاب میں 4 ارب کی سیکڑوں ایکڑ اراضی الاٹ کرنے کی منظوری دی گئی تھی، کابینہ ارکان کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بیوروکریٹس کو الاٹمنٹ کی منظوری دی۔

ذرایع نے مزید بتایا کہ فائدہ اٹھانے والوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل اسٹاف افسر عامر کریم بھی شامل ہیں، مستفید ہونے والے دیگر افراد میں احمد نواز سکھیرا، فیصل ظہور، اشفاق احمد اور گریڈ 20 کے فدا حسین بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف شراب لائسنس کیس میں بھی تفتیش جاری ہے، 19 اگست کو نیب نے عثمان بزدار کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، اس کیس میں ان کی طلبی کا پھر امکان ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں