کراچی میں بچی سے زیادتی کیبعد قتل کا معاملہ، 18 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل

کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی پانچ سالہ بچی کے کیس میں ٹھارہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جاچکے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق کیس میں تین مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔ تینوں ملزمان مقتولہ کے محلہ دار ہیں۔ کیس میں تیرہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہےکہ میڈیکل رپورٹ اور مشتبہ افراد کی ڈی این اے رپورٹ کے بعد معاملہ مزید واضح ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ 5 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد سر پر بھاری چیز مارکرقتل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایم ایل او کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بچی کی لاش پڑے رہنے کی وجہ سے خراب ہوئی تھی۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کو تھانے بلاکر بیانات قلمبند کررہے ہیں۔

گزشتہ روز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ 5سالہ بچی سے زیادتی اور قتل انسانیت سوز واقعہ ہے۔ سندھ پولیس مجرم تک پہنچے اور اسے کیفرکردار تک پہنچائے۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے بچی سے زیادتی کی تفتیش پر سندھ پولیس کو نتائج دینے کی ہدایت کرنے ہوئے کہا تھا کہ تفتیش کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔

خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں پاکستان کے سینیٹ نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب سے منسوب اور بچوں کے تحفظ سے متعلق ’’زینب الرٹ بل 2020‘‘ کثرت رائے سے منظور کرلیا تھا۔

زینب الرٹ بل 2020ء کے تحت بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب ہونے والوں کو سزائے موت سے لے کر عمر قید یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل 2020 کی منظوری دے دی تھی۔

زینب الرٹ بل 2020 کے تحت بچوں کو اغوا اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا ہو گی۔ مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس اہلکار بھی جیل جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں