بزدار حکومت نے دو سال میں پانچ آئی جیز تبدیل کیے ہیں، عطا تارڑ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما عطا تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب میں پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ن لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمات بنانے کے لیے نئے سی سی پی او کی تعیناتی کی گئی ہے۔

 نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی پر اپنے ردعمل میں عطا تارڑ نے کہا کہ بزدار حکومت نے دو سال میں پانچ آئی جیز تبدیل کیے ہیں۔

ن لیگ کے مرکزی رہنما عطا تارڑنے استفسار کیا کہ شہزاد اکبر آئی جی پنجاب کی تبدیلی کرنے والے کون ہوتے ہیں؟

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہزاد اکبر پنجاب میں جاری انتقامی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں اور پنجاب میں مداخلت بھی کررہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے اسی ضمن میں کہا ہے کہ جب نئے آئی جی کو لاتے ہیں تو تعریفیں کرتے ہیں اور پھر ذلت کے ساتھ بھیجتے ہیں۔

ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں افسران کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس شعیب دستگیر کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ ان کی جگہ انعام غنی کو آئی جی پنجاب کی ذمہ داری تفویض کردی گئی ہے۔

انعام غنی ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب تعینات تھے۔ وہ اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب بھی تعینات رہ چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سابق آئی جی شعیب دستگیرکو سیکریٹری نارکوٹکس کنٹرول بورڈ لگا دیا ہے۔

اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر انسپکٹر جنرل آف پولیس شعیب دستگیر نے صوبائی حکومت سے شدید اظہار ناراضگی کیا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی وجہ سے وہ گزشتہ تین دن سے اپنے دفتر بھی نہیں گئے تھے۔

سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر، 26 نومبر 2019 کو آئی جی پنجاب تعینات کیے گئے تھے۔ انہوں نے بطور آئی جی پنجاب دس ماہ بھی مکمل نہ کیے ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ دو سالوں کے دوران پانچ آئی جیز تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی مرضی کے خلاف تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ اپنے منصب پہ کام کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں