وزیراعظم کی انسداد تشدد بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو انسداد تشدد بل اسمبلی میں جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے پیغام میں اعجاز شاہ نے کہا کہ میں نے وزارت داخلہ کو جسمانی اذیت کیخلاف ہمارے مسودہ قانون کو قومی اسمبلی میں پیش کرنےکاعمل تیز بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ 

انہوں نے لکھا کہ مہذب جمہوری معاشرے میں تشدد ناقابل قبول ہے اور یہ ہمارے آئین اور اسلام کی روح کے بھی منافی ہے۔

عمران خان نے تحریر کیا کہ تشدد کا خاتمہ ہماری بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔

قبل ازیں سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام اور سزا سے متعلق بل منظور کیا تھا۔

کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مصطفی نوازکھوکھر کی زیرصدارت ہوا جس میں سینیٹر شیری رحمان نے بل پیش کیا۔

انسداد تشدد بل 

بل کی منظوری شیری رحمان نے سینیٹ فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں دی۔ بل کے مطابق دوران حراست تشدد کرنے پر 3سال تک قید اور 20لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

تشدد روکنے کا ذمہ دار شخص ناکام ہوا تو اسے 5 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ دوران حراست موت یا جنسی زیادتی پر قانون کے مطابق سزا اور 30 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

جو پبلک سرونٹ دوران حراست موت یا جنسی تشدد روکنے میں ناکام رہا اسے دس سال تک سزا ، بیس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

بل کے مطابق خاتون کو کوئی مرد حراست میں نہیں رکھے گا، تشدد کے ذریعے لیا گیا بیان ناقابل قبول ہو گا۔ دوران حراست تشدد یا موت کا جرم ناقابل راضی نامہ اور ناقابل ضمانت ہوگا۔

عدالت تشدد کی شکایت کرنے والے شخص کا بیان ریکارڈ، جسمانی اور نفسیاتی معائنہ کرائے گی۔ تشدد ثابت ہونے کی صورت میں عدالت معاملہ سیشن کورٹ کو بھیج دے گی۔ عدالت معاملے پر تحقیقاتی ایجنسی کے رپورٹ ملنے پر 60دن کے اندر فیصلہ کرے گی۔

تشدد کی غلط رپورٹ دائر کرنے پر ایک سال سزا اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ عدالت متعلقہ سرکاری ملازم کی معطلی یا تبادلے کی احکامات بھی دی سکتی ہے۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف تیس دن میں ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہو سکی گی۔ متاثرہ شخص سیشن کورٹ میں تحفظ فراہم کرے گا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں