وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکی تجویز مسترد کر دی

وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکی تجویز مسترد کر دی، ‏اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں سات سے نو روپے تک اضافےکی تجویز دی تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے عوام سے ہمدردی اور بارشوں سے تباہی میں ریلیف کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔

جنوری 2020 میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 116 روپے 60 پیسے، ڈیزل127 روپے 26 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 99 روپے 45 پیسے مقرر کی گئی جبکی جنوری کی قیمتیں ہی فروری میں ہی برقرار رکھی گئیں۔

مارچ کے مہینے میں پیٹرول، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے کمی کی کا لولی پاپ دیا گیا تو کورونا وائرس کے باعث ماہ اپریل کے لئے 25 مارچ کو نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئےپیٹرول کی قیمت میں15 روپے 03 پیسے، ڈیزل 15 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 15 روپے فی لیٹر کمی کی گئی۔

مئی2020 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرکے پیٹرول14 روپے 98 پیسے، ڈیزل 27 روپے 15 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے 01 پیسے کمی کی گئی۔ جون میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 7 روپے 06 پیسے کمی کرکے نئی قیمت 74 روپے 52 پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 5 پیسے اضافہ کیا گیا جس سے نئی قیمت 80 روپے 15 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 11 روپے 88 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 35 روپے 56 پیسے مقرر کی گئی تھی۔

ماہ جولائی میں پیٹرولیم کی قیمت کم ہونے کے سبب پیٹرولیم مافیا نے فروخت بند کر دی اور ملک میں قلت کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی حکومت نے 26 جون2020کو ریکارڈ 25 روپے اضافے کیساتھ پیٹرول کی قیمت100 روپے فی لیٹر مقرر کر دی جس سے پیٹرول کی مصنوعی قلت تو ختم ہوگئی مگر عوام کو تاریخی مہنگائی کے طوفان کا تحفہ ملا تو جولائی میں قیمتوں کو برقرار اور اگست میں 3 سے 7 روپے مہنگا کر کے پھر سے مہنگائی کا تحفہ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں