ؑآٹھ محرم حضرتِ عباس سے منسوب کیا جاتا ہے

آج حضرت ابوالفضل العباسؑ کی یاد میں جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ آٹھ محرم منسوب ہے حضرت علیؑ کے چھوٹے بیٹے حضرت عباسؑ سے جنہیں امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنا علم دار بنایا۔

آج جگہ جگہ اسی علمدار حسینی کی یاد منائی جارہی ہے، عزادار آٹھ محرم کو حضرتِ عباسؑ سے منسوب کرتے ہیں۔

شجاعت ہی کی وجہ سے امام حسین نے اپنے لشکر کا سالار اور علمدار بنایا۔ ام البنین کے لعل حضرت ابوالفضل العباس امام حسینؑ کے بھائی ہیں۔  وجیہہ اتنے کہ اہلِ مدینہ آپ کو قمر بنی ہاشم کہتے۔

تعارف حضرت عباس علمدار علیہ السلام

حضرت عباس علیہ السلام کو شجاعت اور بہادری اپنے آباؤ و اجداد سے ورثے میں ملی، آپ کے باپ اسد اللہ الغالب تھے جبکہ ماں کا تعلق عرب کے شجاع ترین خاندان بنی کلاب سے تھا۔

جناب زہرا سلام علیہا کی شہادت اور ان ناگوار واقعات کے کچھ عرصہ بعد حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل سے مشورہ کیا کہ آپ کے لیے کسی ایسے خاندان کی عورت تلاش کریں جو شجاعت اور بہادری میں نامدار ہو تاکہ اس سے ایک بہادر اور دلیر بچہ دنیا میں آئے۔

جناب عقیل نے عرب کے معروف شجاع خاندان بنی کلاب کی خاتون فاطمہ بن حزام بن خالد کو آپ کی زوجیت کے لیے انتخاب کیا اور کہا: عرب میں اس کے اباؤ و اجداد سے زیادہ کوئی بہادر اور جنگجو نہیں ہے۔

شہادتِ حضرت ابوالفضل العباسؑ

روز عاشور امام حسینؑ نے آپ کو جنگ کی اجازت نہ دی اور بی بی سکینہؑ کے لیے فقط پانی لانے کو کہا۔

مشک سکینہ کی حفاظت کرتے ہوئے کربلا میں نہر فرات پر حضرت عباس علمدارؑ کے دونوں بازو شہید ہوئے۔

مشک سکینہ چھد گیا اور خیموں میں علم آیا لیکن علمدار واپس نا آیا۔

آپ کی شہادت پر امام حسین نے یوں نوحہ کیا کہ

“آج میری کمر ٹوٹ گئی”

(ٹوٹی جو کمر شہہ کی بس دو ہی تو صدمے تھے )

عزادار یہی عہد کرتے ہیں جب تک دل سینے میں ہے آپ کا غم نہیں جائے گا۔

مشہور القاب

حضرت عباس کے مشہور القاب سقائے سکینہ، علمدارِ کربلا، باب الحوائج اور قمر بنی ہاشم ہیں۔ 

کربلا میں آپ کے تین بھائی اور چار فرزند بھی شہید ہوئے۔

کربلا میں امام حسینؑ کے روضے کے سامنے آپ کا روضہ آج بھی اہلِ وفا کا قبلہ کہلاتا ہے۔

وفا کو بھی فوج حسینی کے علمدار پر ناز ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بارگاہوں اور گھروں پر حضرت عباسؑ کی وفا کا پرچم لہرایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں