7 محرم حضرت قاسمؑ سے منسوب، شہزادہ نے آخری سانس تک امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نبھایا

سات محرم الحرام کا دن کربلا کے شہید اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے بھتیجے شہزادہ قاسم علیہ السلام سے منسوب ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے قافلے کا ہر فرد حریت و حمیت کا پیکر تھا۔ جہاں اصحاب امام حسین علیہ السلام نے روزِ عاشور خود کو اُن پر قربان کیا وہیں ان کے خانوادے نے بھی اپنا خون دے کر دین کی آبیاری کی۔ جب عاشور کے دن طبلِ جنگ بجا تو بچوں نے بھی جنگ لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کے فرزندحضرت قاسم علیہ السلام بھی شامل تھے۔

شہزادہ قاسم کی عمر صرف تیرہ برس تھی لیکن ان کا دل شوقِ شہادت سے لبریز تھا۔ آپ کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح امام حسین علیہ السلام سے اذنِ جہاد ملے۔

شبِ عاشور جب امام حسین علیہ السلام نے شہداء کے نام اور جنت میں ان کے مقام کے بارے میں بتانا شروع کیا تو جناب قاسم علیہ السلام نے بیتابی سے پوچھا کہ کیا شہداء کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے ان کو اپنے قریب بلایا اور سوال کیا بھتیجے تمہاری نظر میں موت کیسی ہے۔ جناب قاسم نے جواب دیا چچا موت میرے لئے شہد سے زیادہ شیرین ہے۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : اے نورِ نظر تم بھی کل قتل ہونے والوں میں سے ہوگے اور تمہاری لاش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کر دیا جائے گا۔

عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام اِس بات پر راضی نہ تھے کہ شہید بھائی کی نشانی اُن سے جدا ہو جائے اسی لئے وہ جناب قاسم علیہ السلام کو جنگ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اس پر بھتیجے نے چچا کو وہ وصیت دکھائی جس میں امام حسن علیہ السلام نے حضرت قاسم علیہ السلام کو عاشور کے دن اپنے چچا پر قربان ہوجانے کی تاکید کی تھی۔

وصیت پڑھ کر امام حسین علیہ السلام نے شہزادہ قاسم کے گلے میں بانہیں ڈال دیں دونوں نے بہت گریہ کیا۔ سیّد الشہداء قاسم کو خیمے میں لے کر گئے۔

حضرت عباس ،عون ،اور جناب امّ فروا کو اپنے قریب بلایا اور زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا سے فرمایا بہن میرے اسلاف کے تبرکات کا صندوق لاؤ۔

امام نے نے امام حسن ع کی قبا کو قاسم کے زیب تن کیا امام مجتبیٰ کا عمامہ سر پر باندھا اہل بیت اس منظر کو دیکھ کر رونے لگے۔ امام نے شہزادہ قاسم کے گریبان کو چاک کردیا اور عمامے کے دونوں سروں کو ان کے چہرے پر ڈال دیا۔

کم سنی کے باعث حضرت قاسم علیہ السلام کے جسم پر زرہ نہ تھی اور ان کے پائوں گھوڑے کی رکاب میں بھی نہیں پہنچ رہے تھے۔آپ نے میدان میں پہنچتے ہی بڑی شان سے جنگ کا آغاز کیا۔

اپنے دادا سے ورثے میں ملنے والی شجاعت کے جوہر دکھائے اور 35 افراد کو قتل کیا۔ آپ کی جرأت اور شجاعت پر لشکرِ عمر ابنِ سعد خوفزدہ ہوگیا اور آپ پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا۔ اس دوران عمر ازدی نامی شخص نے آپ کے سر پر تلوار سے وار کیا۔ آپ گھوڑے سے گر پڑےاور چچا کو مدد کے لئے پکارا۔

فوج اشقیا کو منتشر کرنے کے لیے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام نے حملہ کر دیا۔ فوج ڈر کر بھاگی تو آپ کا جسم گھوڑوں کے سموں تلے کچلا گیا۔

امام زمانہ علیہ السلام زیارت ناحیہ میں کہتے ہیں میرا سلام ہو اس پر جو زندہ گھوڑوں کے سموں تلے پامال ہوا۔ آپ کے جسم کے ٹکڑے امامِ مظلوم علیہ السلام ایک چادر میں جمع کرکے لائے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی رحمت سے دُور ہے وہ قوم جس نے تمہیں قتل کیا۔

عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام اِس بات پر راضی نہ تھے کہ شہید بھائی کی نشانی اُن سے جدا ہو جائے اسی لئے وہ جناب قاسم علیہ السلام کو جنگ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اس پر بھتیجے نے چچا کو وہ وصیت دکھائی جس میں امام حسن علیہ السلام نے حضرت قاسم علیہ السلام کو عاشور کے دن اپنے چچا پر قربان ہوجانے کی تاکید کی تھی۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں