حکومت نے نواز شریف کے حوالے سے کیا فیصلہ کر لیا؟ مسلم لیگ (ن) کو ناقابلِ یقین سرپرائز دے دیا گیا

وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کا وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے مشاورت مکمل کر لی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے، کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ برداشت نہیں کروں گا۔ اس متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے۔ قوم کی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ نوا زشریف مجرم ہیں واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں۔ حکومتی لیگل ٹیم کو نواز شریف کو واپس لانے کا ٹاسک مل گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں مریم نواز کی حالیہ سرگرمیاں بھی زیر بحث آئیں۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو نیب آفس کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی پر گرفتار کرنا چاہئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کجو باہر نہیں جانے دیں گے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد ،سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کے معاملے پر وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد اور وفاقی وزیر فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے

یاسمین راشد نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کی 100 بار انکوائری کرالیں، فواد چوہدری ڈاکٹر نہیں، ان کیلئے رپورٹ کو سمجھنا مشکل ہوگا۔

فواد چوہدری نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان پر جواب میں کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد گائناکالوجسٹ ہیں، میرا نہیں خیال نواز شریف کو کوئی ایسا پرابلم تھا جس کا حل گائنا کالوجسٹ کے پاس ہو لہٰذا یاسمین راشد سے بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ کابینہ کا فیصلہ تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سب سے پہلے شیخ رشید نے ہاتھ کھڑے کرکے نواز شریف کو بیرون ملک جانے دینے کے حق میں رائے دی تھی۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں