معاونین خصوصی کے استعفے، فواد چوہدری نے اندورنی بات بتا دی

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس کے مستعفی ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاونین بطور ٹیکنوکریٹ آئےکام نہیں چل رہا تھا اس لیے مستعفی ہوئے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ میرا خیال ہےظفرمرزا جس طرح پالیسی چلانا چاہتے تھے ویسے نہیں چلی کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دباؤ نہیں لےسکتےمستعفی ہوجاتےہیں، سیاست دباؤ والا کام ہے پاکستان کےسسٹم میں زیادہ دباؤپڑتاہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ میں رد و بدل وزیراعظم عمران خان کا اختیار ہے ٹیم کا انتخاب اور کام کیسےچلانا ہےوزیراعظم کا اختیارہوتا ہے، پی ٹی آئی میں زیادہ رواج ہےبات کرسکتےہیں سنی بھی جاتی ہے، ہماری کابینہ میں ایسی بحث ہوتی ہےجوماضی میں نہیں ہوتی تھی پارٹی میں ہرشخص کواپنی بات کرنےکاپورحق دیاجاتاہے پارٹی میں کوئی بھی کسی سے بھی سوال کرتا ہےجواب دیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کیاپیپلزپارٹی میں کوئی آصف زرداری سےکرپشن کاپوچھ سکتاہے؟ پیپلزپارٹی میں وہ سکت نہیں کہ حکومت کیخلاف تحریک چلائیں اس پیپلزپارٹی کوجانتےہیں جسےکہاجاتاتھاچاروں صوبوں کی زنجیر ہے لیکن اب پی پی پنجاب میں مکمل طورپرختم ہوچکی ہے، لوگ جمع نہیں کرسکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان مدرسےکےبچوں کوجمع کرتےہیں اپوزیشن چاہتی ہےمدرسےکےبچےجمع ہوں اوریہ تقریریں کریں مسلم لیگ ن اورپی پی دونوں احتجاج نہیں کرناچاہتے اس وقت صرف مولانافضل الرحمان ہاتھ پاؤں ماررہےہیں حکومت کیخلاف صرف فضل الرحمان تحریک چلاناچاہتےہیں اپوزیشن کےپاس احتساب کےنام پرکوئی اوربیانیہ ہےہی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں