خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنا کرطالبات کو ہراساں کرنے کا الزام، وائس چانسلر کو سزا سنا دی

بلوچستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف بلوچستان میں خفیہ ویڈیوز بنانے اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے سابق وائس چانسلر جاوید اقبال سمیت پانچ ملازمین کو مختلف نوعیت کی سزائیں دی ہیں۔

خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنانے اور پھر طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے جن اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی تھی ان کا جائزہ لینے اور ان کے خلاف سزاﺅں کا تعین کرنے کے لیے یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ بورڈ کا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرشفیق الرحمن کی زیرصدارت ہوا۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر محمد نعیم اور سکیورٹی گارڈ سیف اللہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سینڈیکیٹ نے یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار طارق جوگیزئی اور سابق ٹرانسپورٹ آفیسر شریف شاہوانی کی تنخواہ میں دو،دو سال کے لیے سالانہ اضافہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چونکہ سابق وائس چانسلر جاوید اقبال کو کوئی سزا دینے کا اختیار سنڈیکیٹ کے پاس نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے گورنر بلوچستان جو کہ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں کو سابق وائس چانسلر کے خلاف جوڈیشل کارروائی اور ان سے ایوارڈز اور ٹائٹلز واپس لینے کی سفارش کی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کا معاملہ گذشتہ برس ستمبر میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس واقعے کا نہ صرف بلوچستان ہائی کورٹ نے نوٹس لیا تھا بلکہ بلوچستان کی طلباء تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیا تھا۔

سیاسی جماعتوں اور طلباء تنظیموں نے طالبات کو ہراساں کرنے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں