نیب کو ختم کرنے کا اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھا لیا گیا، اہم خبر نے سب کو چونکا دیا، جانیے تفصیلات

اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پرمذاکرات کے دوران نیب قوانین میں 35 ترامیم اور 1999سے پہلے کا احتساب نہ کرنے کا مطالبہ کردیا، شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ 35 ترامیم سے نیب کا ادارہ مفلوج ہوجائے گا، اپوزیشن چاہتی ہے احتساب کے عمل کو بند کردیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن نیب قوانین میں 35 ترامیم مانگ رہی ہے، اپوزیشن کی 35 ترامیم سے نیب کا ادارہ مفلوج ہوجائے گا۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے 1999سے پہلےکا احتساب نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے احتساب کے عمل کو بند کردیا جائے۔ وزیراعظم کا موقف ہے احتساب کے عمل پرسمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اپوزیشن قومی سلامتی سے متعلق ایشوزپرقدم بڑھائے۔ اپوزیشن حکومت کو بلیک میل نہ کرے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ ایف اے ٹی ایف پرمذاکرات ہورہے ہیں۔ فیٹف کے بدلے اپوزیشن جو مانگ رہی ہے وہ نہیں دے سکتے۔ اپوزیشن کے 35 نکات کا مطلب نیب کو بند کرنا ہے۔ اپوزیشن کے نکات پربات چیت نہیں ہوسکتی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب آر ڈینس سمیت دیگر بلوں پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق نیب ترمیم پر راضی نہیں۔  ہم نے کمیٹی سے واک آئوٹ کر دیا ہے۔ اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔ ابھی بھی امید ہے ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہونی چاہیے۔ ہمیں حکومت مخلص نظر نہیں آرہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ ،پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور (ن) لیگ کے عطاء اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ گزشتہ کچھ دنوں سے بات چل رہی کہ حکومت اور اپوزیشن کی بل پر بات ہو رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ حکومت نے کہا تھا چار بل دونوں ایوانوں سے پاس کرانا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں