سزائے موت کے خلاف اپیل کی مدت بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش

سزائے موت کے خلاف اپیل کی مدت بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ بل قومی اسمبلی میں سید جاوید حسنین نے پیش کیا۔

محرک بل میں کہا گیا ہے کہ قانون میں سزائے موت والے افراد کو اپیل کیلئے 7دن دیے جاتے ہیں۔ جیلوں میں لیگل ایڈوائزر نہ ہونے سے 7دن چکروں میں گزرجاتے ہیں۔ سزائےموت کے خلاف اپیل کی مدت ایک ماہ کی جائے۔

پارلیمانی سیکریٹری وزارت قانون نے بل کی حمایت کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے بل کو قانون وانصاف کمیٹی کے حوالےکردیا۔

نیوکلیئرریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ بل تحریک انصاف کی رکن نصرت واحد نے پیش کیا۔

بل کے تحت نیوکلیئرسےمتعلق مختلف ادارے ایک اتھارٹی کے تحت آجائیں گے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیردفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے کہا تھا کہ کہ دفاعی پیداواری صلاحیت بڑھانےکیلئےبہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کی صلاحیت بہتربنانے کیلئےآسامیاں تخلیق کی گئیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ڈی جی پروڈکشن اورڈی جی کمرشل کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ پی اوایف میں مشنری بہتربنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ پی اوایف آرڈیننس میں نظرثانی کی گئی ہے۔

زبیدہ جلال نے کہا تھا کہ پی اوایف کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہیوی انڈسٹریزٹیکسلا کے ماتحت ایک تجارتی کمپنی بنائی گئی۔ لڑاکاطیاروں کی انسپکشن ملک کےاندرکرکے زرمبادلہ بچایاگیا۔

اجلاس کے دوران فیصل مسجد تا روات اسلام آباد ہائی وے سے متعلق لاگت کی تفصیلات ایوان میں پیش کی گئی تھیں۔

وزارت داخلہ نے جواب میں کہا تھا کہ زیروپوائنٹ سے کورنگ پل تک 13 کلومیٹرسڑک سگنل فری بنادیا گیا ہے۔ ایچ 8، آئی8، سوہان، کھنہ اورکورال انٹرچینج کی تعمیر پر 5ہزار150 ملین خرچ ہوچکے۔

وزارت داخلہ کے مطابق کورنگ پل اورپی ڈبلیوڈی انڈرپاس پرعملی کام اگست میں شروع ہوجائے گا۔ کورنگ پل اورپی ڈبلیوڈی انڈرپاس پر 1622 ملین لاگت آئےگی۔

تحریری جواب میں کہا گیا تھا کہ کورنگ پل سے روات تک 13 کلومیٹرسڑک نجی سرکاری شراکت داری کےتحت تعمیرکرنےکی تجویزہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں