نیب افسران کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ انکوائریوں اور تفتیش کا عمل جلد مکمل کرسکیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مقدمات میں تاخیرکا آغاز قومی احتساب بیورو کے دفترسے ہوتا ہے۔

احتساب عدالتوں کی کمی اور زیر التوا ریفرنسز سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے 23 جولائی کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب افسران کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ انکوائریوں اور تفتیش کا عمل جلد مکمل کرسکیں۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق نقائص سے بھرپور انکوائریوں اورتفتیش کی بنیاد پر ریفرنس بنادیاجاتا ہے۔ غلطیوں اورنقائص سے بھرپور ریفرنسزعدالتوں میں چل ہی نہیں پاتے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب ریفرنسزمیں متعلقہ مواد اور قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے کے سبب تاخیرہوتی ہے۔ریفرنسز عدالتوں میں بھیجنے سے پہلے چیئرمین نیب مکمل جانچ پڑتال کریں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب یقینی بنائیں کہ تمام مواد ریفرنس کے ساتھ ہو تاکہ ملزمان کو سزا ہوسکے۔

سپریم کورٹ حکم نامے کے مطابق قانون بنانے والوں نے نیب ریفرنس پر30 دنوں میں فیصلہ کرنے کا قانون بنایا ہے۔ قانون سازی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نیب عدالتیں فیصلہ ہی نہ کرپائیں۔

عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نیب عدالت بھیجے گئے ریفرنس پر30 دنوں میں فیصلہ جاری کرنا یقینی بنائے۔ نیب افسران اور پراسیکیوٹرزمیں صلاحیتوں کا فقدان ہے۔

عدالتی حکم نامے می کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب افسران اور پراسیکیوٹرز میں صلاحیتوں کے فقدان کا معاملہ خود دیکھیں۔ چیئرمین نیب سمجھتے ہیں کہ ان کی قانونی ٹیم باصلاحیت نہیں تو اسے تبدیل کردیں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسران اور پراسیکیوٹرز کی صلاحیتوں سے متعلق چیئرمین نیب رپورٹ جمع کرائیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا تھا کہ کرپشن کے مقدمات میں 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ 50 ،50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے۔ موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کےلیے ناکافی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں