اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے حیران کن فائدوں کا اعلان کردیا، جانیے تفصیلات

حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل طریقے سے رقوم پاکستان بھجوانے پر کئی طرح کی رعایتوں کا اعلان کر دیا۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈیجیٹل طریقے سے پاکستان میں مقیم اپنے خاندان والوں کور قوم بھجوائیں گے، انہیں سستے فضائی ٹکٹ مہیا کیے جائیں گے اور پروازوں پر اضافی سامان لیجانے کی بھی اجازت دی جائے گی۔ حکومت کی طرف سے یہ اعلان لوگوں کی ڈیجیٹل طریقے سے رقم بھجوانے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکسانیز سید ذوالفقار بخاری کا کہنا تھا کہ ”ہم یکسر نئی مراعات پاکستانیوں کو دینے جا رہے ہیں۔ جن کا آغاز آئندہ دو ماہ میں ہو جائے گا۔

ہم نے نجی بینکوں کو کو ڈیجیٹائزیشن پر کام کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے انہیں 65ہدایات جاری کی ہیں، جن کے ذریعے بیرون ملک سے پاکستان رقوم کی ترسیل کو آسان تر بنایا جائے گا۔ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جو مراعات دینے جا رہے ہیں یہ پوائنٹس سسٹم پر ہو گی۔

ان کی ڈیجیٹل طریقے سے بھیجی گئی رقوم کو دیکھتے ہوئے طے کیا جائے گا کہ کسے فضائی ٹکٹس پر رعایت دینی ہے۔ کسے اضافی سامان کی اجازت دینی اور کسے ہوٹلوں میں رہائش کی سہولت ملنی ہے۔

دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا صورتحال بہتر رہی تو تعلیمی ادارے کھولنے پر غور کریں گے۔ عید اور محرم کے نتائج دیکھ کر تمام سیکٹرز شادی ہالز، ریسٹورانٹ ،سیاحت، اسکول اور تعلیمی ادارے کھولنے پر نظرثانی کریں گے۔ ان تمام سیکٹرز کو ایس اوپیز کے تحت کھولیں گے۔

انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ کورونا سے جو مریض شدید متاثر تھے، وہ پریشر اب نیچے آگیا ہے۔ آج پاکستان ان چند ممالک میں ہے۔ جس نے وباء پر قابو پا لیا ہے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آگے بھی چیلنجز ہیں۔ ہمیں مزید احتیاط کرنی ہے، یا ددہانی کروادوں۔ جب 13مارچ کو لاک ڈاؤن لگایا۔ اور کس طرح کی مشکلات تھیں۔ اللہ کا کرم ہے تیزی سے کورونا وائرس کیسز نیچے آگئے ہیں۔

کورونا چین سے یورپ گیا، لوگ یہاں بیٹھ کر یورپ کو دیکھ رہے تھے۔ ہم پر دباؤ تھا کہ یورپ جیسے اقدامات اٹھائیں۔

ہم نے کوشش کی لاک ڈاؤن بھی لگا دیا لیکن ہماری پہلی حکومت تھی۔ جس کو پہلے دن سے ادراک تھا۔ ہمارے یورپ سے حالات مختلف تھے۔ جب ملک میں غربت ہو، کچی آبادیوں میں لوگ رہتے ہوں۔ مزدور ہوں، 80 مزدوروں کا ریکارڈ یا ڈیٹا ہی موجود نہ ہو۔ ہم نے اپنی ٹیم سے مشاورت کی اور سمارٹ لاک ڈاؤن کیا ۔ یہ سب سے پہلے ہم نے لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک میں کرفیو لگایا جاتا ہے، تو اس کا مطلب لوگوں کو گھروں میں بند کردینا ہوتا ہے، اس طرح تو لوگ بھوکے مر جائیں گے۔

اس طرح ہندوستان میں ہم نے دیکھا جب وہاں ایک گھنٹے میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

لوگ اچانک لاک ڈاؤن سے پھنس گئے اور میلوں پیدل چل کرگھروں کو گئے۔لاک ڈاؤن امیر اور خوشحال علاقوں میں ہوسکتا ہے۔ ان علاقوں میں جہاں روزگار نہیں، پیسا نہیں وہاں بڑا مشکل کام ہے۔

آج دنیا بھی اس کو مان رہی ہے کہ پوری طرح لاک ڈاؤن ممکن نہیں۔ہم نے فوڈ سپلائی پر بندش نہیں لگائی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جب تعمیراتی شعبے کو کھولنا شروع کیا تو ہم پر بڑی تنقید کی گئی کہ ہم تباہ کررہے ہیں۔ لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

اموات بڑھ جائیں گی۔ ہم نے رسک لیا، فیصلہ اور لوگوں کو بھوک سے بچایا۔اللہ کا کرم ہے ہمارا فیصلہ درست تھا۔

دوسرا ہمیں احساس پروگرام پر فخر ہے، سب سے زیادہ لاک ڈاؤن کا اثر غرباء پر پڑا ہے۔

ہندوستان میں بھی اوپر20فیصد کوکوئی فرق نہیں پڑا لیکن نیچے والا طبقہ دب گیا۔کسی نے بھی اتنا بڑا پروگرام اتنے تھوڑے وقت میں شروع کیا اور لوگوں تک شفافیت سے پیسا پہنچایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں