بلاول بھٹو کی حکومت کے ساتھ قربتیں، کس کام میں کپتان کا بھر پور ساتھ دینے کی یقین دہانی؟ (ن)لیگ سٹپٹا کر رہ گئی

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور نیشنل ایکشن پلان پرحکومت کی ضرورت پوری کریں گے۔

اسپیکر اسد قیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اورحکومت کو اتفاق رائے سے قانون سازی کرنی ہوگی۔ درخواست ہے کہ قانون سازی سے متعلق کمیٹی میں ان بلزکوبھیج دیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ بابر اعوان کوپتہ ہے، یہ ہمارے ساتھ کام کرتے رہے۔ کیا آپ ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ آپ اتفاق رائے میں سنجیدہ نہیں۔ اگر سنجیدہ نہیں تو پھر ہم کیوں مل کر چلیں؟

قومی اسمبلی میں بابر اعوان نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور مقرر آرڈیننس 2020 اور اینٹی منی لانڈرنگ بلز ایوان میں پیش کیے۔ بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا آرڈیننس کلبھوشن کو فائدہ دینے کے لیے لایا گیا گزشتہ ہفتے آرڈیننس ایجنڈے میں شامل ہونے کے باوجود بل پیش نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے سے قانون سازی کے لیے کمیٹی میں معاملات جا رہے ہیں، بل ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار تھےتو کچھ نہیں ہوا۔ طریقہ کارپرعمل نہیں کیا گیا تو بل پھر تاخیر شکار ہوتے رہیں گے۔

دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن بختاور بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ہونے والی بارش کے پانی کی نکاسی پر سندھ حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا” جب بارش آتی ہے تب پانی آتا ہے، ساری رات سڑکوں کی نگرانی کرنے پر سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آج سب صاف ہو گیا، بدقسمتی سے ہم برساتی مینڈکوں کے مسائل حل نہیں کر سکتے جو بارش ہوتے ہی نکل آتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی وزرا کہاں تھے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں