پولیس کی اسپیشل برانچ کو صوبے کی تمام جیلوں میں انسپکشن کی اجازت دے دی گئی

جیلوں میں قیدیوں کی شکایات پرپنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا، پولیس کی اسپیشل برانچ کو صوبے کی تمام جیلوں میں انسپکشن کی اجازت دے دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل برانچ کے افسران واہلکار ٹیم کے ہمراہ جیلوں میں وزٹ کر سکیں گے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل برانچ کے افسران جیل بینک، بیرکس، کچن اور اسپتال کی انسپکشن کریں گے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات پران کے رشتہ داروں کا انٹرویو کرسکیں گے۔ اسپیشل برانچ کے افسران جیلوں میں لگائے گئے شکایات بکس کو چیک کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ پنجاب میں قانون کے تحت قیدیوں کے لیے تین درجے مختص کیے گئے ہیں جو اے، بی اور سی کیٹیگری کہلاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کس قیدی کو کون سے کیٹیگری ملے گی اس کا فیصلہ حکومت وقت کرتی ہے ۔ اے کیٹگری میں قیدی جیل کے اندر آزادانہ گھوم پھر سکتا ہے،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ درجہ پاکستان میں آج تک کسی بھی قیدی کو نہیں ملا۔
دوسری گیٹیگری کو بی کلاس کا نام دیا گیا ہے جس میں قیدی کو ائیر کنڈیشنڈ، ٹی وی، اخبار، بستر، کرسی، میز اور ایک مشقتی ملتا ہے، پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو بھی دوران قید اسی کلاس میں رکھا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی بی کیٹیگری دی گئی ہے۔

تیسری کیٹیگری سی کلاس ہے جو عام قیدیوں کو ملتی ہے، اس میں کسی بھی قیدی کو کوئی اضافی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، جیل حکام کے مطابق جیل مینوئل کی پابندی ہر قیدی کو اپنی کیٹگری کے لحاظ سے کرنا ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں