لاہور میں ایک بار پھر شہری آٹے اور چینی کی تلاش میں بازاروں کے متعدد چکر لگانے پر مجبور

 لاہور میں آٹا اور چینی کی قیمتیں بڑھنے کے بعد اب فراہمی بھی ناپید ہو گئی ہے۔

لاہور میں ذخیرہ اندوز ایک بار پھر متحرک ہو گئے اور حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام نظرآرہی ہے۔

شہرمیں آٹا اور چینی مہنگے کیا ہوئے بازاروں سے ہی غائب ہو گئے۔ ضلعی انتظامیہ لاہور میں بلا تعطل اور مناسب نرخوں پر آٹا اور چینی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی۔

شہری آٹے اور چینی کی تلاش میں بازاروں کے متعدد چکر لگا چکے ہیں لیکن کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ شہری کہتے ہیں کہ ہر سال عید سے پہلے ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکومت اسے قابو میں کرنے کے لیے کوئی جامع پالیسی تشکیل دے۔

شہری کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انتظامیہ مسئلہ کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظرآ رہی ہے۔

دوسری جانب دکاندار کہتے ہیں کہ آٹے کی سپلائی دن بدن کم ہو رہی ہے اور چینی بھی مہنگی مل رہی ہے اس لیے ہم مجبور ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے 20 کلو آٹے کے تھیلےکی قیمت 860 روپے جبکہ چینی کی فی کلو قیمت 70 روپے مقرر کر رکھی ہے تاہم وہ بازاروں میں اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔

چینی اور آٹے کی تلاش میں پریشان حال شہری کہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے نوٹس لے تاکہ ان کے مشکل کم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں