بلاول ہاؤس میں خوشیوں کا سماں، جیالے مبارک باد دینے پہنچ گئے، آصف زرداری کے آنگن میں خوشیاں لوٹ آئیں

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین ، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری آج 65ویں سالگرہ منائیں گے ۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے مختلف مقامات پر آصف علی زرداری کی سالگرہ کے کیک کاٹے جائیں گے اور ان کی جلد صحتیابی اور درازی عمر کیلئے دعائیں مانگی جائیں۔ بلاول ہاؤس میں خوشیوں کا سماں، جیالے دور دور سے مبارک بادیں دے رہے ہیں ۔

دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے بھائی کو اہم عہدہ دینے کی کہانی سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز مولانا فضل الرحمان کے بھائی کو کراچی کے ضلع وسطی کا ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا تھا۔

مختلف حلقوں کی جانب سے ضیاء الرحمن کی تعیناتی کی مخالفت کی گئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیا الرحمان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پرتحریک انصاف سمیت دیگرحلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی حوالےسے ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیا الرحمن کی بطور ڈپٹی کمشنر تعیناتی فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کی حالیہ ملاقات میں کی جانے والی ملاقات میں خصوصی سفارش کی وجہ سے ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات حکومت کے خلاف بلائی جانے والی اے پی سی پر گفتگو کے لیے کی گئی۔

مبینہ طور پر اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے درخواست کی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت برخلاف میرٹ ان کے بھائی کو صوبے میں کہیں بھی ڈپٹی کمشنر کی اسامیوں پر تعینات نہیں کر رہی۔

ان کے بھائی جو کہ پروانشل مینجمنٹ سروسز کے گریڈ 19 کے افسر ہیں وہ سندھ میں ڈیپوٹیشن پر ہیں۔لہذا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے درخواست کی کہ ان کے بھائی کو سندھ میں ہی اکاموڈیٹ کیا جائے۔اس پر پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے درخواست پر عمل کرنے کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ بھجوایا،ابتدائی طور پر مراد علی شاہ تذبذب کا شکار رہے۔

انہوں نے صوبائی وزارت قانون اور دیگر ماہرین قانون سے قانونی رائے لینے کے بعد سمری کی اجازت دی۔دوسری جانب روزیراطلاعات سندھ ناصرشاہ نے کہاکہ ان کی تعیناتی ایک انتظامی معاملہ ہے۔

ضیا الرحمان کا تعلق صوبائی مینجمنٹ سروس کے پی کے سے ہے، ضیا الرحمان کی خدمات سندھ حکومت کے حوالے کی گئی تھیں، انہیں تاحکم ثانی ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کیا گیا ہے۔

انہیں فرحان غنی کی جگہ ڈی سی سینٹرل تعینات کیا گیا ہے، جبکہ فرحان غنی کا تبادلہ کرکے ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ تعینات کردیا گیا ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے پروزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی تعیناتی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہونا کوئی جرم نہیں ہے ضیا الرحمان خیبر پخنوتخوا میں بھی انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، وہ کمشنر افغان رفیوجی اور ڈی سی خوشاب بھی رہ چکے ہیں،ضیا الرحمان کی تعیناتی ایک مکمل انتظامی معاملہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں