لیگی رہنماء راتوں کے اندھیرے میں کس سے ملاقات کر رہے ہیں؟ اعتزاز احسن پھٹ پڑے، تہلکہ خیز انکشاف

سینئر قانون دان اوررہنما پیپلزپارٹی اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما رات میں کس سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ایک دن حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں اگلے دن خاموش ہوجاتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا یہ بیان مناسب ہے کہ وہ حکومت نہیں گرانا چاہتے ۔ کورونا کے ماحول میں محاذ آرائی کی سیاست نہ ہوتو بہتر ہے ۔نون لیگ میں حکومت کو بھیجنے یا نہ بھیجنے پر کنفیوژن ہے۔ حکومت گرانے کا آسان طریقہ بجٹ کی مخالفت تھی۔ بجٹ اجلاس میں رانا تنویر جیسے لیگی رکن نہیں آئے۔

مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ وزیراعظم کو گرفتار کیا جائے، انہیں معلوم ہونا چاہئے۔ جب وزیراعظم گرفتار ہوتا ہے تو مارشل لاء لگتا ہے ۔

جب ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف گرفتار ہوئے تو ملک میں آمریت آئی تھی ۔ ہم چاہتے ہیں حکومت کام کرے یا گھر جائے ۔ نون لیگی رہنما رات میں کس سے ملاقاتیں کررہے ہیں، کچھ معلوم نہیں ۔

ایک دن حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں اگلے دن خاموش ہوجاتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ احسن اقبال ،شاہد خاقان اورخواجہ آصف ایک ساتھ بولتے ہیں، ایک ساتھ چپ ہوتے ہیں ۔

دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق اتحاد کے نام اور عہدیداروں کا فیصلہ اے پی سی کے دوران کیا جائے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو لاہور میں چار روز قیام کے بعد براستہ موٹروے اسلام اآباد روانہ ہو گئے۔

وہ عید کے بعد دوبارہ لاہور آئیں گے ۔ ان کی لاہور آمد کا مقصد مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اے پی سی کے بارے میں مشاورت اور ایجنڈا پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

دونوں رہنماؤں میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا تاہم شہباز شریف کی بیماری کی وجہ سے براہ راست ملاقات نہ ہو سکی۔

ٹیلی فونک رابطے کے اگلے دن مسلم لیگ ن کا تین رکنی اعلیٰ سطحی وفد خیر سگالی کے طور پر بلاول ہاؤس پہنچا اور اے پی سی کے بارے میں مشاورت اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں