اہم ترین منصوبے میں کرپشن کرنے پر 20 افراد کو اعلیٰ افسران سمیت سزا دے دی گئی، جانیے تفصیلات

بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن پر 20 اہلکاروں کو سزائیں دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن کا انکشاف ہوا تھا۔

منصوبے میں خردبرد اور بے قاعدگیوں پر محکمہ جنگلات کے دو سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر سمیت بیس اہلکاروں کو جرمانہ اور سزا دے دی گئی ہیں۔

مذکورہ اہلکاروں سے ایک کروڑ 96 لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے میں سزا پانے والوں میں دو سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر،ایک فارسٹ رینجر،تین ڈپٹی فار سٹ رینجر،دو فارسٹرز،11 فارسٹ گارڈ اور ایک کلاس فور ملازمین شامل ہے۔ جبکہ اہلکاروں سے سے بڑی رقم بھی وصول کی گئی ہے۔ سزا پانے والوں نے بنوں اور کوہاٹ میں مطلوبہ تعداد میں پودے نہیں لگائے۔جبکہ ہزارہ میں کم تعداد میں پودے لگا کر خزانے سے زیادہ پیسے وصول کیے گئے۔

محکمہ جنگلات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کو انکریمنٹ روکنے کی سزا اور وارننگ بھی دی گئی ہیں جبکہ سزائیں پندرہ انکوائرییز مکمل ہونے پر دی گئی۔

سیکرٹری محکمہ جنگلات خیبر پختونخواہ شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ جہاں بھی باقاعدگی سامنے آئی، کروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ لیکن پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ میں حکومت کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور مجموعی طورپر جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لیے پہلی مرتبہ شروع کی گئی ”بلین ٹری سونامی” منصوبے کے آڈٹ رپورٹ میں وسیع پیمانے پر بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے انکشافات سامنے آئے تھے۔

اسی حوالے سے سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ میں بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو لوگ بی آر ٹی کو بھی بھول جائیں گے، تو لوگ اس ملک میں کرپشن کے باقی جن اسکینڈلز کا ذکر ہو رہا ہے اُن سب کو بھی بھول جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں