پرویز مشرف کی حکومت بہترین تھی مگر کیوں؟ عمران خان کے بیان نے حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں کوحیران کردیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف کی حکومت بری نہیں تھی لیکن این آراو دیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ پلان بنانا پڑے گا، حکومت کے وہ ادارے جو مسلسل نقصان کررہے ہیں انہیں ٹھیک کرناہوگا۔ ان اداروں میں بجلی کے بقایاجات سب سے بڑا عذاب بنا ہوا ہے، ہم اداروں میں بڑی بڑی تبدیلیاں کرنے کو تیار ہیں۔ جب بھی تبدیلیاں لائیں گے، مزاحمت آئے گی۔ ان بہت سے اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک اصلاحات نہیں کریں گے، ملک نہیں چلے گا۔ اس سے نہیں ڈرنا ہوگا کہ ہڑتال ہوجائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اسٹیل ملز میں 34 ارب روپیہ بند مل کے ملازمین کو تنخواہوں کا دے دیا گیا۔ جس پیپلزپارٹی نے اسٹیل ملز تباہ کی وہ اس کی بحالی کی باتیں کرتی ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا منصوبہ بھارت میں بنایا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردوں کا منصوبہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ملازمین کو یرغمال بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہیروز سب انسپکٹر افتخار، خدا یار، حسن علی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ہمیں کوئی شک شبہ نہیں کہ یہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے۔ ہم دہشت گردی کے 4 منصوبے ناکام بنا چکے ہیں۔ 2 اسلام آباد کے قریب دہشتگردی کے منصوبے تھے۔  انٹیلی جنس اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے یہاں کھڑے ہوکر کہا کہ یہ ہے وہ دستاویزات، جس سے لندن فلیٹس لیے۔ نواز شریف کی بدقسمتی ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا۔ ملک کا سربرا ہ پیسہ چوری کرکے باہر لے کر جارہا تھا۔ ایک صاحب کہتے میاں صاحب فکر نہ کرو۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم دبئی کی کمپنی میں نوکری کررہا تھا۔ 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک گیا۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت جلد چلی جائے تاکہ ان کی چوری بچ جائے۔ وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ پر لاک ڈاون کے حوالے سے تنقید کی گئی۔  ہم نے کورونا ایس اوپیز کے تحت معیشت کھولی۔ لاک ڈاون میں دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ ہم نے اسمارٹ لاک ڈاون کو اپنایا تاکہ معیشت چل سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاون نہیں کرنے دیتا، آج دنیا اسمارٹ لاک ڈاون کی طرف گئی ہے۔ ہمیں ابھی بھی معاشی طورپر چیلنج کا سامنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاور سیکٹر کا ساراقرضہ ماضی کی حکومتوں کا ہے۔ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی۔ پی آئی اے میں اب مافیا بیٹھا ہوا ہے۔ 11 برسوں میں 10 بار پی آئی اے کے سربراہ تبدیل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اداروں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اسٹیل ملز پر آج 250 ارب روپے کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی حکومت نے پہلے سال 4 ہزار ارب روپے جمع کیے جن میں سے 2 ہزار ارب قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیا۔ اب اداروں کی اصلاحات کے بغیر نہیں چل سکتے، اداروں میں بڑے بڑے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں