اپوزیشن کی مخالفت رائیگاں، قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 21-2020 ء کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال21-2020 کے لیے وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے۔ وفاقی بجٹ 21-2020ء کے لیے اپوزیشن کی جانب سے تجویز کی گئی تمام ترامیم کو مسترد کردیا گیا۔

قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری کے بعد سینیٹ سے اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کے بعد صدر مملکت اس پر دستخط کریں گے۔

خیال رہے کہ حکومت نے 12 جون کو 71 کھرب 37 ارب روپے کا آئندہ مالی سال کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

بجٹ میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ میں 3437 ارب روپے کا خسارہ ہے جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7 فیصد بنتا ہے جب کہ نئے مالی سال کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

ایوان میں بجٹ بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آج بجٹ منظوری کے بجائے ذاتی حملے کیے گئے، بجٹ نہ پڑھنے والوں نے شور مچایا ،احتساب ان کے اعصاب پر سوار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا، شاید ہی کبھی ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہو، جب بجٹ پیش بھی نہیں ہوا تھا تو اپوزیشن نے نا منظور نامنظور کے نعرے لگائے ،ہم نے دو بڑی مافیاز کو نکال باہر کیا اور نوجوان نسل ان کے سامنے لاکھڑی کی ہے۔

اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بجٹ مسترد کیا ہےکیونکہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے، جب بجٹ پربحث جاری تھی،اس پر منی بجٹ نافذکیاگیاجس میں تیل کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا، یہ ہمارا بجٹ نہیں تھا لیکن ہمارے 119 لوگ موجود رہے، وزیراعظم 3 دن سے پارلیمنٹ میں آرہے ہیں، عشائیے دیے جا رہے ہیں، آج ثابت ہوا وزیراعظم کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے تھے اجلاس میں ووٹوں کی گنتی کی جائے،وزیراعظم بجٹ منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں 172 نمبرز پورے نہیں کرسکے،آج پارلیمان میں حکومت کے 160 نمبرز تھے، عمران خان کو اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی اتحادی جماعتوں نے انہیں شاید آخری بار ووٹ دیا ہے، یہ کہتے تھے 100 دن میں حالات ٹھیک کردیں گے، حکومت کو 2 سال ہوچکے، ان سے کچھ نہیں ہوا، اس حکومت کو مزید وقت دینا ملک کی تباہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں