ملک بھر میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 76ہزار 398 ہو گئی جبکہ 27,110 مریض صحتیاب

ملک بھر میں کورونا وائرس کے 3938 نئے کیس سامنے آگئے اور 78 افراد کا اس بیماری سے انتقال ہوگیا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16 ہزار 548 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 5 لاکھ 77 ہزار 94 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 3 ہزار 938 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 76 ہزار 398 تک جا پہنچی جن میں سے 27 ہزار 110 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس کے پنجاب میں 27 ہزار 850 ، سندھ میں 29 ہزار 647، خیبرپختون خوا میں 10 ہزار485، بلوچستان میں 4 ہزار 515، اسلام آباد میں 2 ہزار 893، گلگت بلتستان 738 اور آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 271 ہوگئی۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق ایک روز میں کورونا سے مزید 78 مریض زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد ایک ہزار 621 ہوگئی۔

کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئیں جہاں 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11، بلوچستان میں 47 اور آزاد کشمیر میں 6 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

 وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس

حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے متعلق فیصلہ کیا ہو اس پر غور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا، لاک ڈاؤن کورونا وائرس کا علاج نہیں بلکہ اس کا پھیلاؤ روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایس او پیز پر عمل کرکے اور سماجی فاصلہ اختیار کرکے بھی کورونا کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، امیرملکوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلےگا، ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن شعبوں کو نہیں کھولنا ہے اس کی تفصیلات جلد عوام کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں