وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے استعفیٰ دیدیا، اصل وجہ کیا بنی؟ پسِ پردہ کہانی ہوگئی ظاہر

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ، فروغ نسیم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم مستعفی ہوگئے، انھوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا، فروغ نسیم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ہوگی، اٹارنی جنرل خالد جاوید نے حکومتی کی نمائندگی سے معذرت کی تھی اور عدالت نے پیشی کیلئے فروغ نسیم کو لائسنس بحال کرانے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے نومبر 2019 میں بھی فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سپریم کورٹ میں مدت ملازمت سے متعلق کیس کی پیروی کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع کیس کی پیروی کے لیے مستعفی ہونے والے بیرسٹر فروغ نسیم کو کیس کا فیصلہ آنے کے بعد دوبارہ وزیر قانون بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

نومبر 26 کو فروغ نسیم نے وفاقی وزیر قانون کے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھایا، وزیر اعظم عمران خان نے فروغ نسیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ آپ محنت کر رہے ہیں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، پوری کابینہ آپ کے ساتھ ہے، بطور وزیر قانون آپ حکومت کی بہترین نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں