طیارہ حادثے میں کوتاہی ثابت ہوئی تو مستعفی ہو جاؤں گا: وزیر ہوابازی

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کا کہنا ہےکہ طیارہ حادثے کی جلد از جلد اورشفاف انکوائری ہوگی، کوشش ہے طیارہ حادثے کی رپورٹ 3 ماہ میں آجائے، کریش لینڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار سامنے آنا چاہیے، میں اور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے بھی ذمہ داری عائد کیے جانے پر عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔

کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ائیر مارشل ارشد ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن (سی اے اے) اور پی آئی اےکے انجینئرز بھی اپنے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں،حادثے کی جلد از جلد انکوائری شفاف طریقے سے ہوگی۔

وفاقی وزیر ہوا بازی کاکہنا تھا کہ اگر حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ نہ آئے تو ہماری اور اداروں کی بھی کمزوری ہے، ائیر فورس کے ماہرین سے بھی مدد لی جائے گی جب کہ سی ای او سمیت میری بھی ذمہ داری ہے کہ خودکو احتساب کیلئے پیش کروں، اگر ائیرپورٹ کے علاقے میں اضافی تعمیرات ہوئیں توان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پرامدادی رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کی ہے جب کہ انشورنس کی رقم اس کے علاوہ ہوگی، مقامی آبادی کے اثاثوں کے نقصانات کا سروے کرنے کی بھی ہدایات کردی ہیں، جوگھرمتاثر ہوئے ان کی مرمت کرائیں گے اور آبادی میں جومالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 15سو ایکڑ زمین ایوی ایشن کی تھی جس پرقبضہ ہوا، سب سابقہ حکومتوں کے دور میں قبضے ہوئے، ائیرپورٹ کے قریب اونچی عمارتیں ممنوع ہوتی ہیں،سی اے اے کی نااہلی پر ان کو بھی نوٹس دیے جائیں گے۔

اس موقع پر سربراہ پی آئی اے ائیر مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ وہ ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے طیارہ حادثے کے ذمہ دار کو احتساب کیلئے پیش کریں گے، حادثے کی تحقیقات کیلئے جو معلومات درکار ہوں گی وہ فراہم کی جائیں گے، طیارے کا بلیک باکس انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

ائیر مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پی آئی اے جامع مسجد میں شہداء پی آئی اے کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی، 21 افراد کی میتیں ورثاء کوپہنچا دی گئی ہیں جب کہ باقی کے ڈی این اے کرائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایکسیڈنٹ بورڈ کی ٹیم وفاقی حکومت نے بنادی ہے،طیارہ حادثے کے جاں بحق مسافروں کے لواحقین سے رابطہ ہو چکا ہے، حادثے کا مداوا پیسہ نہیں ہوسکتا، ہمارا ائیرپورٹ ہوٹل اور قصرناز لواحقین کیلئے وقف ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پروازپی کے 8303 ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8ارکان سوار تھے، حادثے کے نتیجے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ صرف 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

ڈپٹی کمشنر کورنگی کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی جناح گارڈن کے بلاک اے اورآر میں گراجس سے 19گھروں کو نقصان پہنچا ان میں 2 گھر مکمل طور پرجل گئے۔

ڈی سی کورنگی کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے میں کالونی کا کوئی رہائشی جاں بحق نہیں ہوا اور صرف تین خواتین زخمی ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ گھروں کے 16 رہائشیوں کو شارع فیصل پر واقع ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے جنہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں