بیٹا نہ ہونے کا طعنہ، ماں نے 2 کمسن بیٹیوں کو پانی کے ٹب میں ڈبو دیا

شوہر بیٹا نہ ہونے کا طعنہ دیتا تھا،چھ روز قبل تیسری بیٹی ہوئی تو یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی۔ ملزمہ کا بیان

سیالکوٹ کے علاقے حاجی پورہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ماں نے گریلو جھگڑوں کے باعث اپنی دو بیٹیوں کو پانی کے ٹب میں ڈبو دیا۔ایک بیٹی دم توڑ گئی جبکہ دوسری کو والد نے بچالیا۔ملزمہ کا کہنا ہے کہ شوہر بیٹا نہ ہونے کا طعنہ دیتا تھا جس کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھانے آنے پر مجبور ہوئی۔

6 روز قبل بھی تیسری بیٹی ہوئی جس کے بعد شوہر سے جھگڑا ہوا۔ملزمہ کی بیٹیوں کی عمریں دو سال اور پانچ سال تھی۔ماں نے دونوں بچیوں کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر مارنے کی کوشش کی تاہم شور کی آواز سننے پر والد موقع پر پہنچ گیا۔جس پر والد نے اپنی بیٹی اریبہ کو بچا لیا تاہم دو سالہ بچی دم توڑ گئی۔

پولیس نے والدہ کو گرفتار کرلیا۔

دو روز قبل سیالکوٹ میں ہی بیٹے نے ماں باپ سمیت سات افراد کو جلا ڈالا۔

پولیس کے مطابق پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا واقعہ ڈسکو میں پیش آیا۔واقعے میں ماں باپ دو بہنیں اور ایک بھائی جا ں بحق ہوگیا۔امیر حمزہ نے والد کی ڈانٹ ڈپٹ پر پٹرول چھڑک کر آگ لگائی۔ملزم نے آگ لگا کر کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا۔بتایا گیا کہ نوجوان کو والدین آوارہ گردی کرنے سے منع کرتے تھے جس پر اس نے طیش میں آکر انتہائی خوفناک قدم اٹھا لیا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ سب لوگ ایک ہی کمرے میں سوتے تھے میں نے کنڈی لگا کر سب کو جلا دیا۔ایک بہن اور ایک بھائی زخمی حالت میں اسپتال پہنچا دیے گئے ہیں۔واقعے پر محلے میں موجود لوگ بھی اشکبار ہیں۔

ایک محلےدار نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کے بھائی نے حال ہی میں قرآن مجید حفظ کیا تھا۔ امیر حمزہ نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے والد گرامی پھیری کا کام کرتے تھے اس کے والد نے بار بار سمجھایا لیکن مجھے بہت زیادہ غصہ آتا تھا۔ پولیس کے مطابق ڈسکہ کے محلہ گلہ شیخاں والا میں علی حمزہ نامی ملزم نے 22 اپریل کو رات کے وقت تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں