قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں، لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا: اسد عمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں۔ زیادہ بڑے فیصلے ہو چکے ہیں اب عمل درآمد کا مرحلہ ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں زندگی کا پہیہ چلانے کے ساتھ جانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے، یہاں سب مل کر ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسد عمر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ این سی سی فیصلے پر قومی اتحاد کے ساتھ عمل درآمد ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار چھینا نہیں جاسکتا جبکہ کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر مسلسل کام کر رہا ہے۔ اب پورا ملک بند کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں پر فوکس ہو گا اور نشاندہی کرنی ہے کس علاقے میں کیسز زیادہ اور وائرس پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ساڑھے 13 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے گئے اور 70 لیب ہیں جہاں کورونا ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاوَن کے نظام نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب کے 359 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاوَن کیا گیا اور خیبر پختونخوا میں 177 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاوَن کیا گیا۔ لاڑکانہ اور کوئٹہ میں بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پشاور میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ 85 افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں جبکہ گزشتہ رات تک ملک بھر میں 165 افراد وینٹی لیٹرز پر تھے۔

اسد عمر نے کہا کہ ایسا مؤثر نظام چاہیے جس میں مریض کو صحیح اسپتال تک پہنچایا جا سکے۔ کورونا وائرس سے متعلق صحت کے ڈیٹا کے لیے ایک پورٹل بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں