شیخ رشید کو کس نے بتایا کہ نیب عید کے بعد ٹارزن بنے گا؟ احسن اقبال نے اہم سوالات اٹھا دیئے

مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس حکومت میں فیصلوں کا فقدان دیکھنے میں آیا ہے، کورونا وائرس کا واحد حل لاک ڈاوَن اور سماجی فاصلہ ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب سے کورونا کی وبا آئی ہے حکومت یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ لاک ڈاوَن کرنا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے مطابق آج لاک ڈاون ختم ہوچکا ہے جبکہ پنجاب حکومت کہہ رہی ہے کہ درخواست کریں گے کہ بڑے شہروں سے لاک ڈاون نہ ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان رابطوں کا فقدان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہمیں ایسا وزیر اعظم نہیں چاہئے جسے نہیں معلوم کہ حکومت میں ہو کیا رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی نظر میں نیب کورونا کی ویکسین ہے، نیب کو ایک بار پھر اپوزیشن کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے 30 سال پرانے کیسز کے نوٹس مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو بھیج دئیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پڑوسی ملک چین کے بھی شکر گزار ہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پوری قوم کہہ چکی ہے کہ بھارت سے تمام تعلقات ختم کئے جائیں مگر یہ حکومت بھارت سے دوائیوں کی تجارت کررہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ میں عمران خان کو کہنا چاہتا ہوں کہ جھوٹے مقدموں سے ہمارے قدموں میں لرزش نہیں آئے گی۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید صاحب بتا دیں کہ وہ وزیر ہیں یا نیب کے پی آر او ہیں،انہیں کس نے بتایا کہ نیب عید کے بعد ٹارزن بنے گا۔

ان کا کہنا تھ کہ شہباز شریف کو دوبارہ نوٹس بھیج دیا گیا ہے لیکن آٹا اور شوگر مافیا کے خلاف کچھ نہیں ہو رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں