لاک ڈاؤن میں نرمی خطرناک ہوگی، طبی ماہرین کی وزیراعظم سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل

چیئرمین ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹراسفند یار نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کےفیصلے پر نظر ثانی کی جائے، ملک میں 700 سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز کورونا سے متاثرہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹراسفند یار نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں 700سےزائد ہیلتھ پروفیشنلز کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں اور آئسولیشن وارڈ کے باہر ڈیوٹی کرنے والے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر اسفند یار کا کہنا تھا کہ متاثر بیشتر ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا گیا ،حکومت سےاپیل ہےفرنٹ لائن سولجرز کی حفاظت کےاقدامات کرے اور این 95 ماسک، فیس شیٹ ، گلوز، اور کٹس فراہم کی جائیں۔

وزیر اعظم سے اپیل ہے لاک ڈاؤن میں نرمی کےفیصلے پر نظر ثانی کی جائے ، سرکاری اسپتالوں میں سب سےاہم فیصلہ او پی ڈیز کھولنے کا ہے، ایک دم او پی ڈیز کھولنے سے رش اور کیسوں میں اضافے کاامکان ہے۔

یاد رہے اس سے قبل بھی چیئرمین ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹراسفندیار کا کہنا تھا لاک ڈاؤن میں نرمی خطرناک ہوگی، پالیسی پرعمل نہ ہواتوپوری قوم متاثر ہوسکتی ہے ،حکومت اپنی لاک ڈاؤن کی پالیسی کو مزید سخت کرے۔

ڈاکٹراسفندیار نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی نظام صحت کسی بڑے امتحان کا متحمل نہیں ہو سکتا، پاکستانی ہیلتھ اسٹرکچر یورپ اور امریکا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، کورونا نے یورپ اور امریکا جیسے ممالک کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں