دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا: جسٹس قاضی امین

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بعض چیزیں چوری نہیں ہو سکتی، جیسے کسی کا ایمان چوری نہیں ہو سکتا، دل سمیت بعض چیزوں کو چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا۔

جمعرات 7 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کرنے والے ججز میں جسٹس قاضی امین اور جسٹس عمر عطا بندیال شامل تھے۔ دائر کیس میں ملزم ذوالفقاراحمد پر 2 کروڑ سے زائد رقم کے بوگس چیک دینے کا الزام ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا چیک کی بھی چوری ہو سکتا ہے، ملزم کیسے دعویٰ کر سکتا ہے چیک چوری ہوئے، پہلے چوری کی تعریف پڑھ لیں، بعض چیزیں چوری نہیں ہو سکتی، جیسے کسی کا ایمان چوری نہیں ہو سکتا، چیک مووایبل پراپرٹی میں نہیں آتا۔ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مدعی نے چیک چوری کرکے جعلی چیک دینے کا جھوٹا مقدمہ کیا، مدعی درخواست گزار کا کاروباری شراکت دار تھا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ملزم کا اکاؤنٹ 2017 میں بند ہوا، چیک پر 2019 کی تاریخ درج ہے لگتا ہے درخواست گزار نے شرارت سے چیک جاری کیا۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ نے چیک پر دستخط کرکے تاریخ بھی لکھ رکھی تھی۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ فوجداری کیس میں ملزم کی گرفتاری لازمی ہے، جو نہ ہو تو نظام عدل ہی ختم ہو جائے گا، ملک میں نظام عدل تقریباً پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔ ضمانت قبل از گرفتاری کا قانون 1949 سے بہت واضح ہے، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ مقدمے میں 3 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ عدالت ضمانت منظور کرے تفتیش میں تعاون کریں گے۔ کرونا وائرس کا خدشہ ہے اور عید بھی آ رہی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست مسترد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں