کورونا وائرس: علما کرام کی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

علما کرام نے صدر مملکت عارف علوی اور حکومت کو کورونا وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعرات کو صدر مملکت کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے تمام مکاتب فکر کے علما نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود افراد نے ذاتی طور پر شرکت کی۔

صدر پاکستان کی جانب سے اجلاس کے دوران کورونا وائرس کا ملک میں پھیلاؤ روکنے کے لیے مصر کی الاظہر یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا فتویٰ پیش کیا گیا۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی صدر کو تجاویز پیش کیں۔

مشاورتی نشست میں صدر مملکت نے علما سے کورونا وائرس کی صورتحال پر گفتگو کی اور لوگوں میں اس مرض کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے سلسلے میں تعاون کی گزارش کی۔

صدر مملکت نے علما کے اتحاد خصوصاً گزشتہ روز کراچی میں جاری کیے گئے فتوے کو سراہا۔

علما نے صدر مملکت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی ہدایات پر کار بند رہیں گے اور انہوں مذہبی اجتماعات کی منسوخ اور مدرسہ کے طلبا کو چھٹی دینے جیسے اقدامات لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کے 30لاکھ بچوں کو چھٹیاں دے چکے ہیں اور عوام بحران سے بچاؤ کے لیے اللہ سے رجوع کریں اور عبادت کریں۔

علما نے کورونا وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات اور ضرورت مندوں کے لیے رفاہی اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹرز اور نرسوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

صدر مملکت نے علما کا حکومتی اقدامات کی تائید پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مزید گزارش کی کہ علمائے کرام لوگوں کو درس دیں کہ وہ گھروں میں رہ کر نماز ادا کریں کیونکہ بحران سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلہ قائم کرنا ہے۔

صدر مملکت نے علمائے کرام کے حفاظتی تدابیر بارے متفقہ اعلامیے کو بھی سراہا جس پر علمائے کرام نے حکومتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے مصر کے سفیر کی مدد سے جامع الاظہر سے کورونا وائرس کے حوالے سے باجماعت نماز اور نماز جمعہ کے اجتماعات کے حوالے سے رہنمائی طلب کی تھی۔

جامعہ الاظہر نے اس حوالے سے گزشتہ روز فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ باجماعت نماز اور عوامی اجتماعات سے کوورنا وائرس پھیل سکتا ہے اور اسلامی ممالک کی حکومتیں اس سلسلے میں یہ اجتماعات منسوخ کرنے کا حق رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک ایک ہزار 118افراد وائرس سے متاثر اور 8ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والے اس وائرس سے چین میں 3ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک کو سخت احتیاطی تدابیر کی بدولت اس وائفرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔

البتہ بعدازاں یہ دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیلتا گیا اور اب تک وائرس کے نتیجے میں کم از کم 21ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں یورپ میں ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں